موت ایسی چیز ہے جو بڑے سے بڑے سورما کو زیر کردیتی ہے، اس کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ موت کے پنجے کسی بھی جگہ، کسی بھی وقت اور کسی بھی حال میں انسان کو جکڑ لیتے ہیں۔ موت کے بعد آپ کا کیا حال ہوگا یہ کوئی نہیں جان سکتا۔ کوئی آپ کی قبر پر فاتحہ پڑھنے والا بھی ہوگا یا نہیں۔ زندگی بڑی غیر یقینی چیز ہے، کس لمحہ ختم ہوجائے کوئی نہیں جانتا۔ لیکن اس کے باوجود اس زندگی کو حسین بنانے کے لئے ہر شخص کوشش کرتا ہے، سو برس کا سامان بھی جمع کرتا ہے، چوری ڈکیتی، دھوکہ دہی، بے ایمانی اور فراڈ سب کچھ کرتا ہے اس زندگی کے لئے جس کا کوئی بھروسہ نہیں۔

قبرستان وہ جگہ ہے جہاں خوشی خوشی کوئی نہیں جاتا۔ یا تو چار کندھوں پر جایا جاتا ہے یا پھر اپنے کسی پیارے کی قبر پر فاتحہ پڑھنے جاتے ہیں۔ لیکن کچھ ایسے بدنصیب بھی ہوتے ہیں کہ جن کا نام ونشان بھی مٹ جاتا ہے یا کہیں کچھ ایسا ہوجاتا ہے کہ ان کے لئے کوئی فاتحہ پڑھنے والا بھی نہیں رہتا۔ ایسا ہی کچھ چکوال کے ایک قبرستان کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ جہاں 5000 گمنام قبریں موجود ہیں کچھ نہیں پتہ کہ یہ کس کی قبریں ہیں اور ایسا کیا ہوا تھا کہ یہ لوگ موت کے منہ میں گئے کوئی وبا تھی یا کسی نے حملہ کیا تھا، کیا ہوا تھا جو اتنی بڑی تعداد میں لوگ انتقال کرگئے، یہ بھی نہیں پتہ کہ یہ کس مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ کیونکہ یہ جگہ ایسی ہیں جہاں سے دنیا بھر کے قافلے گزرا کرتے تھے۔

قبروں پر کتبے موجود ہیں لیکن ان کی لکھائی عجیب سی ہے جو کچھ عربی کچھ فارسی کچھ ہندی سے ملتی جلتی ہے۔ کتبوں پر نقش و نگار کندہ ہیں۔ کسی مخصوص طرز کی نمائندگی کرتے ہیں ، اگر ان کو آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی توجہ حاصل ہوجائے تو شاید ان کے بارے میں پتہ چل سکے کہ یہ کس کی قبریں ہیں اور کتنی صدیوں پہلے کی ہیں۔ کیونکہ یہاں کے رہائشی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کم از کم 400 یا 500 سال پرانی قبریں ہیں۔ قس قبرستان میں ایسی وحشت اور سناٹا ہے کہ لوگ یہاں دن کے وقت بھی آنے سے ڈرتے ہیں۔ اگر ماہرینِ آثار قدیمہ یہاں آئیں تو ان کو یہاں سے خاصا مواد مل سکے گا۔ اور لوگوں کو بھی پتہ چل سکے گا کہ یہ کونسی تہذیب کے لوگ یا باشندے تھے۔ صدیوں پرانے اس قبرستان کے بارے میں ہمارے آثار قدیمہ کے محکمے والوں کو توجہ دینی چاہیے تاکہ اس گم گشتہ تہذیب کا نشان مل سکے۔