میرے شوہر مجھے 300 روپے دیتے تھے ۔۔ پاکستان کی 3 مشہور جوڑیاں، جنہوں نے میاں بیوی کے جھگڑوں کو کیسے کم کرایا؟

image

سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات کی ایسی کئی باتیں موجود ہیں، جو کہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے رول ماڈل کے طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ چند ایسی ہی شخصیات کے بارے میں بتائیں گے، جو کہ سچ مچ پاکستانی معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔

مستنصر حسین تارڈ اور میمونہ تارڈ:

مسنتصر حسین تارڈ کا شمار پاکستان کے ان چند مشہور ادیبوں اور مصنفوں میں ہوتا ہے۔ مستنصر حسین سرکاری ٹی وی پر الیکشن ٹرانسمشن بھی ہوسٹ کر چکے ہیں جبکہ وہ مختلف ڈراموں جن میں ایک حقیقت ایک افسانہ، ہزار راستے، پرندہ، کیلاش، فریب اور دیگر شامل ہیں، لکھ چکے ہیں۔ کئی کتابیں جن میں اندالوس میں اجنبی، بہاؤِ بے لزتی خراب سمیت کئی مشہور کتابوں کے مصنف ہیں۔

اہلیہ میمونہ تارڈ کہتی ہیں کہ گھر بیٹھا شوہر ساس کی طرح ہوتا ہے، اور میری شادی بھی ساس ہی سے ہوئی تھی۔ میمونہ تارڈ اور مستنصر حسین تارڈ ایک ایسا جوڑا ہے جس نے ہر لمحہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، اور اس وقت بھی ایک دوسرے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہا ہے۔ بیٹے سمیر کو شکایت تھی کہ والدہ نے مجھے سی ایس ایس کی طرف بھیج دیا، اپنا سارا تجربہ مجھے دے دیا۔

مستنصر حسین کہتے ہیں کہ مجھ پر 50 سال پہلے ایک موقع ایک ایسا آیا تھا جب مجھے ادب، میڈیا اور کاروبار میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا تھا۔ کیونکہ گھر کے حالات مجھے مجبور کر رہے تھے۔ جب یہ بات مستنصر صاحب نے اہلیہ کو بتائی تو اہلیہ کا کہنا تھا کہ دیکھیں کاروبار میں آسائش تو ہوگی مگر آپ خوش نہیں رہ پائیں گے۔ اور میں آپ کو خوش دیکھنا چاہتی ہوں۔ میں بتایا تھا کہ اس وقت سخت مقام لمحے بھی آئیں گے، کیونکہ لکھنے سے گھر کا خرچ پورا نہیں ہو پائے گا۔

جس پر اہلیہ نے کہا میں کبھی آپ سے شکایت نہیں کروں گی۔ اور مجھے یاد ہے کہ میں نے اہلیہ کو ایک دن 500 روپے دیے کبھی 300 روپے دیے۔ مگر اہلیہ نے کبھی شکایت نہیں کی۔ ہمیشہ خوش رہی ہیں۔ یہی مجھے ان کی سب سے اچھی کوالٹی لگتی ہے۔ اگرچہ کئی معاملات میں اہلیہ اختلاف کرتی ہے اور ساتھ نہیں دیا مگر اس معاملے وہ میرے قدم سے قدم ملا کر چل رہی ہیں۔

اشفاق احمد اور بانو قدسیہ:

اشفاق احمد بھی ایک ایسے سلجھے ہوئے اور بہترین مصنف کے طور پر جانے جاتے تھے، جو کہ سماجی برائیوں اور اچھائیوں کو بیان کرنے میں بہترین مثالیں دیتے تھے۔ ان کی مثالوں میں نہ صرف احساسات اور جذبات کا مل رجلا عنصر نمایاں تھا، بلکہ ساتھ ہی اخلاقی حدود کا بھی خیال ہوتا تھا۔

جبکہ ان کی اہلیہ بانو قدسہ نے بھی شوہر کی رضا مندی اور ایک اچھی بیوی کے کردار کو کچھ اس طرح بیان کیا، کہ سب کی توجہ تو حاصل کی ہی ساتھ ہی رول ماڈل کے طور پر بھی سامنے آنے لگیں۔

شوہر کو کن جگہوں پر سمجھوتہ کرنا چاہیئے اور برداشت کرنا چاہیئے اور بیوی کو کس طرح اپنی ذمہ داری اور فرائض کو پورا کرنا چاہیئے۔ یہ سب اشفاق احمد اور بانو قدسیہ نے سماج کو بہترین انداز میں سمجھایا۔

اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کا یہ انداز کچھ مختلف تو نہ تھا، البتہ پاکستانی اور اسلامی روایتوں اور اخلاقی حدود کے عین مطابق تھا، جس میں میاں بیوی کی عزت بھی محفوظ تھی اور ان دونوں کے جھگڑوں کو آپس میں سلجھانے کا بھی طریقہ کار تھا، تاکہ کسی تیسرے کو مزے لینے کا موقع نہ ملے۔

جاوید احمد غامدی اور ان کی اہلیہ:

جاوید احمد غامدی کا شمار بھی پاکستان سمیت کئی ممالک میں سلجھے ہوئے اور بہترین عالم دین میں ہوتا ہے۔

جاوید غامدی نے ایسی کئی کتابیں لکھی ہیں، جو کہ کئی سماجی مسائل کو اسلامی طریقہ کار سے حل کرنے پر روشنی ڈالتی ہیں۔ دھیمے لہجے، منطقی جواب کے ساتھ جب جاوید احمد غامدی کسی کو بیان کرتے ہیں تو ان کی بات میں وزن بڑھ جاتا ہے۔

تاہم ان کی اہلیہ نے ایک یوٹیوب چینل کو انٹرویو دیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ غامدی صاحب بہت ہی ہمدرد اور احساس کرنے والے انسان ہیں۔ میں دعا کرتی ہوں کہ اللہ میاں ہر بچی کو ایسا ہی شوہر دے۔

مجھے لگا ہی نہیں کہ میں اپنے سسرال آئی ہوں، ہماری شادی کو تقریبا 40 سال ہو گئے، اس سب میں شروعات میں انہیں غصہ تھوڑا بہت آتا تھا، وہ بھی اس طرح کہ غلط بات پر تھوڑا بہت غصہ آتا تھا۔

سب سے اچھی بات ہے کہ وہ نرم طبیعت اور بچوں کےمعاملے پر وہ کافی حساس ہیں۔ وہ اس بات کے حق میں نہیں کہ بچوں سے کوئی بات زبردستی منوائی جائے۔ اللہ کا شکر ہے ہمارا کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا ہے، لوگ اپنے مسئلے جب لے کر آتے ہیں، تو بچے کہتے ہیں کہ لوگ آپ لوگوں کے پاس آتے ہیں، لیکن آپ لوگوں کا تو کبھی جھگڑا ہوا ہی نہیں۔ میرے شوہر میرے والدین اور بھائی بہنوں کے ساتھ بھی انتہائی محبت سے پیش آتے تھے۔ بچوں اور پوتے پوتیوں کے لیے اداس ہوتی ہوں تو میرا موڈ تبدیل کرنے کے لیے بھی کوششیں کرتے ہیں۔

ان تینوں پاکستانی شخصیات اور ان کی اہلیہ کے درمیان پیار اور محبت دراصل اصل پاکستانی سماجی حدود اور اخلاقیات کی عکاسی ہے۔ جس میں ایک میاں اور بیوی کے درمیان موجود پیار، محبت، سمجھوتہ اور سمجھداری اس زندگی کی سائیکل کو کامیابی کے ساتھ چلنے کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US