ماں کی عظمت سے کون واقف نہیں، ماں باپ وہ ہستی ہیں جو اولاد کے لئے ہر تکلیف اٹھانے کو تیار رہتے ہیں، ان کے لئے جان بھی قربان کردیتے ہیں۔ ماں ہو یا باپ ان کی عزت اولاد کا فرض ہے۔ لیکن افسوس یہی اولاد جس کے لئے ماں باپ اپنا سب کچھ تج دیتے ہیں وہ جب کسی قابل ہوتی ہے تو ان والدین کو تکلیف پہنچانا اپنا حق سمجھتی ہے۔ گذشتہ دنوں ایک نجی چینل نے ایک سوشل میڈیا ٹرینڈ چلایا کہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر ماں کا حق ہے یا بیوی کا حق ہوتا ہے، جس پر لوگوں کی بھی رائے لی گئی تو لوگوں کا کہنا تھا کہ فرنٹ سیٹ پر اگر ماں حیات ہے تو ماں کا حق ہے کیونکہ ماں تو ایک ہی ہوتی ہے۔ ماں کا رتبہ بڑا ہے۔ ماں تو بیوی سے اوپر ہی ہوتی ہے ہم تو اپنی ماں کو ہی آگے بٹھائیں گے۔
لیکن عام طور پر دیکھنے میں اس سے الٹ ہی آتا ہے سب لوگ اپنی بیویوں کو ہی آگے بٹھائے ہوئے نظر آتے ہیں، یہ ہمارا عمومی رویہ ہے۔ کیونکہ بیویاں بھی برا مانتی ہیں اگر شوہر اپنی ماں کو آگے بٹھانے کی بات کرے تو۔ جبکہ کچھ گھرانوں میں اب بھی یہ دیکھا جاتا ہے کہ ماں کی واقعی میں عزت کی جاتی ہے اس کو وہ مقام اور رتبہ دیا جاتا ہے کہ کچھ بھی ہو ماں کی بات ہر حال میں پوری بھی کیا جاتی ہے اور مانی بھی جاتی ہے اور اسی طرح گاڑی کی فرنٹ سیٹ ماں کے لئے رکھی جاتی ہے۔
اسی ٹرینڈ پر جب مشہور میچ میکر مسزخان سے بات کی گئی تو وہ بپھر گئیں انہوں نے کہا کہ ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے اور جو بھی خاندانی لڑکی ہو گی وہ اپنی ساس کو ہی آگے بٹھائے گی، جس کی تربیت اچھی ہوگی وہ لڑکی اپنے شوہر کی ماں کو بھی عزت دے گی، کیونکہ جس ماں نے اپنے بچے کو پال پوس کر اس قابل بنایا کہ وہ آج اس لڑکی کا شوہر ہے تویہ اس ماں کا حق ہے کہ وہ آگے بیٹھے۔ اور جو لڑکی ایسا کرنے پر منہ بنائے اسے تو گاڑی سے نکال باہر کرنا چاہیے۔

مسز خان نے یہ بھی کہا کہ میری بہو بہت اچھی ہے اور میرا بیٹا ہمیشہ مجھے ہی آگے بٹھاتا ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ ماں خود ہی بہو کو کہے کہ تم آگے بیٹھو میں پیچھے بیٹھوں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 90 فیصد لوگ اپنی ماؤں کو ہی آگے بٹھائیں گے،10 فیصد ہی ایسے بے غیرت ہوں گے جو ایسا نہیں کریں گے، لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں حج کرنا ہے حج تو آپ کے گھر میں ہوجائے گا اگر آپ اپنی ماں کی عزت اور خدمت کرو گے۔ بیٹے کی کمائی پر پہلا حق اس کی ماں کا ہے اس کے بعد دوسرے نمبر پر اس کی بیوی آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری بہو میرے لئے گاڑی کا دروازہ کھولتی ہے۔ مجھے خود سے آگے بٹھاتی ہے۔ اس میں لڑائی کی تو کوئی بات ہی نہیں ہے۔ جو اچھی تربیت والی لڑکی ہوگی وہ کبھی بھی اس بات پر نہ جھگڑا کرے گی نہ بحث کرے گی۔