پاکستانیوں کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ خانہ کعبہ، کربلا اور مسجد نبوی ﷺ میں اپنی خدمات انجام دیں، اس حوالے سے وہ اپنی زندگی بھی لگا دیں، انہیں پچھتاوا نہیں ہوگا۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسے ہی پاکستانی کے بارے میں بتائیں گے۔
پاکستان کے شہر منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والے 61 سالہ احمد خان قندل خانہ کعبہ میں سینٹری کے کام کو سُپروائز کرتے ہیں۔
عمر کا وہ دور جب جوانی خوب ٹھاٹیں مارتی یعنی 23 سال کی عمر، اس عمر میں احمد خان قندل نے فیصلہ کیا تھا، کہ وہ اب مسجد الحرام میں ہی اپنی باقی کی زندگی گزاریں گے۔ 1983 میں خانہ کعبہ میں سینیٹری کے کام کا آغاز کیا تھا۔
اگرچہ احمد خان نے اپنے والدین سے شروعات میں عہد کیا تھا، وہ واپس آجائے گا، تاہم اس روح پرور منظر کو روزانہ دیکھنا اور یہاں اپنی خدمات سرانجام دینا، احمد خان کے لیے مشکل تھا کہ وہ اس خوبصورت مقام کو چھوڑ کر کہیں جائے۔
24 گھنٹوں میں زیادہ تر گھنٹے خانہ کعبہ کے پاس بتانے والے اس پاکستانی سے جو بھی ملتے ہے، تو پہلے تو تکتا ہی رہتا ہے اور پھر فورا سے کہہ ہی دیتا ہے آپ تو بہت خوش قسمت شخص ہو۔
احمد خان قندل اپنے شروعات دنوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب میں یہاں آیا تو وہ دور بادشاہ فہد بن عبدالعزیز کا دور تھا، شروعات میں خانہ کعبہ کے صحن کی صاف صفائی میں ذمے تھی، تاہم 4 سال بعد خانہ کعبہ کے توسیع کا پراجیکٹ شروع ہوا تھا۔ میں اس بات کا بھی گواہ ہوں کہ کس طرح صحن کی توسیع کے بعد حجاج کرام اور عمرہ زائرین کے لیے آسانی ہوئی۔
احمد خان اپنے آپ کو خوش قسمت انسان سمجھتے ہیں، جبکہ ان کا ماننا ہے کہ اللہ کے گھر میں یہ شرف حاصل ہونا آسان نہیں تھا، میرے رب نے اسے میرے لیے آسان بنایا۔
احمد خان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی بھی ہیں، جن میں ایک بیٹا والد کے ساتھ سعودی عرب میں خانہ کعبہ میں بنائے گئے الیکٹرک ڈپارٹمنٹ میں اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے، جبکہ دوسرا بیٹا بہن کے ساتھ پاکستان میں ہے۔
جبکہ آخری خواہش بھی ظاہر کردی کہ میری موت کے بعد مجھے اسی شہر میں دفن کیا جائے، جبکہ اپنے ملک سے دور دفن ہونے پر بھی کہا کہ جو کہ شخص خانہ کعبہ کی خدمت کرتا ہو، بھلا وہ بھی تنہا ہو سکتا ہے؟