ایک بھائی شہید ہو گیا، دوسرا آخری وقت میں بھی ماں کے پاس نہیں تھا ۔۔ سینئر صحافی کی بیوہ ماں ایک بار پھر ٹوٹ گئیں

image

سینئر صحافی ارشد شریف کا شمار ان چند صحافیوں میں ہوتا تھا، جنہوں نے سچ اور حق کی خاطر اپنی جان تک دینے سے گریز نہیں کی۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

تحقیقاتی خبروں میں اپنا نام بنانے والے ارشد شریف نے پرائڈ آف پرمانس ایوارڈ بھی اپنے نام کیا تھا، جس کی وجہ سے انہیں پاکستان بھر میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ارشد کے والد پاکستان نیوی میں لیفٹینیٹ تھے جبکہ انہیں خراج تحسین خود 1969 میں اس وقت کے صدر پاکستان نے بھی کیا تھا۔

ارشد کے والد پاکستان نیوی میں ذمہ داریاں نبھا رہے تھے، جبکہ بھائی میجر اشرف پاکستانی فوج میں ایک ایسے محاز پر موجود تھا، جہاں کسی بھی وقت شہادت کی خبر آ سکتی تھی۔

اور پھر خود ارشد ایک ایسی ذمہ داری نبھائے ہوئے تھا، جس میں وہ اپنے پیشے سے بھی دغا نہیں دے سکتا تھا اور اپنے گھر والوں کا بھی خیال رکھنا تھا۔ سچ بولتا تو جان سے جاتا اور چُپ رہتا تو ضمیر گوارا نہیں کرتا۔

ارشد شریف کی والدہ نے اپنے دونوں بچوں کی تربیت ہی ایسے کی تھی، کہ کچھ بھی ہو جائے ظلم کے آگے جھکنا نہیں، پھر چاہے اپنی جان کیوں نا دینی پڑے، ظاہر ہے خون میں جب ملک سے وفا ہو تو پھر شہادت کا جام پینے کا مزاح ہی کچھ اور ہوتا ہے۔

ارشد کے والد بیماری کے باعث انتقال کر گئے اور میجر اشرف سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کا نشانہ بنے۔

شہادت کا جام پینے والے بھائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ارشد اگرچہ فوج میں نہیں تھے، تاہم اپنے قلم سے ملک کا دفاع کر رہے تھے، جو کہ دشمن کو ناگوار گزرتا تھا، یہاں تک کہ اپنی جان بھی دے دی۔

بیوہ ماں کے پاس ارشد کا ہی سہارا تھا، کیونکہ شوہر بھی رحلت کر گئے تھے اور اب دونوں بیٹے بھی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ ارشد شریف کی والدہ بیٹے کی شہادت پر تکلیف میں تو ہیں، تاہم وہ اس وقت پوتے اور پوتیوں اور گھر کو بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب ارشد کی اہلیہ اور شہید میجر اشرف کی اہلیہ اپنی ساس کو ہر لمحہ سپورٹ کرتی دکھائی دیتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس تکلیف اور مشکل صورتحال میں بھی والدہ کے ساتھ کھڑی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US