کل گوجرانوالہ میں عمران خان پر حملہ کیا گیا جس کی وجہ سے ان کو ٹانگ میں 4 گولیاں لگیں تھیں اور آج صبح ان کا پریشن بھی ہوا جس کے بعد اب وہ ہسپتال سے پہلی مرتبہ اپنی عوام کے لیے خطاب کر رہے ہیں۔
عمران خان نے پریس کانفرنس کے شروع میں اپنی ایکسرے رپورٹس اسکرین پر دکھائیں اور ڈاکٹر فیصل سلطان نے اس پر بریفنگ دی
۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ: میں حکومت ساڑھے تین سال رہا،
جلسوں کے بعد لانگ مارچ کا فیصلہ کیا، ملکی تاریخ میں اتنی عوام پہلے نہیں نکلی گولیوں کا ایک برسٹ آتا ہے تو گولی لگتی ہے اور گر رہا ہوتا ہوں تو دوسری طرف سے برسٹ آتا ہے، ایک پکڑا گیا تو کہا گیا وہ جنونی انتہا پسند ہے لیکن وہ انتہا پسند نہیں۔ اس قوم کے سامنے دو راستے ہیں، پر امن یا خونی انقلاب آئے گا، قوم کھڑی ہوگئی ہے۔
میں ٹھیک ہونے پر پھر اسلام آباد کی کال دوں گا، میں جیسے ہی ٹھیک ہوگا پھر سڑکوں پر نکلوں گا، جیسے ہی ٹھیک ہوں گا، کال دوں گا، سٹرکوں پر نکلوں گا۔
ڈاکٹر نے بتایا کہ:
"
گولی دائیں ٹانگ کی شریان کےبالکل قریب لگی، اگر شریان کٹ جاتی تو خون روکنا مشکل ہونا تھا۔ گولی سے عمران خان کی ٹانگ کی ہڈی بھی فریکچر ہوئی ہے۔
"