گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے بعد فائر بریگیڈ اور ریسکیو اہلکاروں کی کارروائیاں بدستور جاری ہیں، جہاں اب تک دو فلورز کو کلیئر کر لیا گیا ہے۔
ضلع جنوبی کے ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ آگ سے متاثر ہونے والے گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور اور پہلے فلور کو مکمل طور پر کلیئر کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے اور تیسرے فلور میں داخلے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کٹر کی مدد سے گرلز کاٹی جا رہی ہیں تاکہ سرچ آپریشن کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔
ڈی سی کے مطابق رات کو مزید دو جبکہ دن کو ایک اور لاش ملی ہیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 27 ہوگئی ہے، جب کہ لاپتا افراد کی تعداد 83 بتائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا ہے کہ اب تک 20 لاشیں سول اسپتال منتقل کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 14 لاشوں کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں، جن میں سے 7 لاشوں کی شناخت مکمل ہو چکی ہے۔ ساتویں لاش کی شناخت قومی شناختی کارڈ کے ذریعے ممکن ہوئی۔
پولیس سرجن کے مطابق متوفین کی شناخت کے لیے 48 اہل خانہ کے نمونے حاصل کیے جا چکے ہیں، جب کہ تمام نمونے سندھ فارنزک ڈی این اے لیبارٹری کو بھیج دیے گئے ہیں۔ ڈی این اے ٹیسٹ انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز، جامعہ کراچی میں کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے کچھ انسانی اعضا بھی لائے گئے ہیں جن پر مزید کام جاری ہے۔
ادھر دکانداروں نے المناک سانحے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے وقت عمارت میں موجود لوگوں کو معمول کے مطابق 26 میں سے 24 دروازے بند ملے، کوئی ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں تھا اور آگ انتہائی تیزی سے پھیل رہی تھی۔ ان کے مطابق پوری مارکیٹ دھوئیں سے بھر چکی تھی۔
دکانداروں نے بتایا کہ آگ کے وقت بجلی بند تھی، نہ کچھ نظر آ رہا تھا اور نہ ہی کچھ سمجھ آ رہا تھا۔ بھگدڑ مچ گئی تھی اور دھوئیں کی وجہ سے محصور افراد کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا تھا۔ واقعے کے وقت دکانوں پر ورکرز اور گاہک بھی موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کے کچھ دیر بعد کئی لوگ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے، جب کہ دکانداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت متعدد افراد کو عمارت سے باہر نکالا۔
قبل ازیں گل پلازہ سانحے میں اب تک لاپتا ہونے والے 73 افراد کی فہرست بھی سامنے آئی ہے، مذکورہ فہرست پولیس کی جانب سے ترتیب دی گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لاپتہ افراد کی فہرست میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں، جن کی عمریں 10 سے 69 سال کے درمیان ہیں، جو آتشزدگی کے واقعے کے بعد تاحال لاپتہ ہیں اور ان کا سراغ نہیں لگایا جاسکا۔
فہرست میں عمر نبیل ولد شاہد علی، عائشہ سمیع زوجہ عمر نبیل، علی بن عمر، سفیان، عبداللہ، تنویر احمد، چرچل، کائنات، راحیلہ تبسم، شائستہ جبین، انس عمران، محمد شیث، محمد نوید پنجوانی، محمد حنیف، آصف عطاری، عمران ولد ابراہیم، محمد اشرف، سعد عرفان، کوثر پروین، محمد اطہر (سکھر والا)، یاسین سرور، سلیم عثمان، آصف مجید، ابرار اکرم، محمد بلال، عبدالحسیب، آفتاب محمد، عثمان گل فیض، نوید جمعہ، محسن آدم شکاری، مصباح عرفان، نمرہ عرفان، مریم نور، شیراز ولد رمضان علی، محمد فہد ولد اشرف حسین، چوہدری رمضان علی، محمد حیدر علی ولد محمد خالد علی، محمد خضر علی ولد محمد خالد علی، آصف خان، عبدالصمد ولد رحمان، حسام ولد افضل، عثمان ولد گل فیض، محمد رمضان ولد اللہ بخش، ابو بکر اسماعیل، شیخ سلمان، سلمان، حمزہ ولد سرفراز، صداقت اللہ، اشعر، نعمت، صداقت، محمد یوسف ولد عامر، یاسین ولد عامر، عبداللہ، محمد علی گھانچی، سرفراز، آصف،
فیصل، سعد، محمد عارف ولد حمید، محمد فیضان ولد رشید، عبدالقیوم، آصف خان، آفتاب ولد محمد، عدنان ولد محمد حنیف، محمد کامران ولد محمد حنیف، غفران احمد ولد محمد احمد، اسلام الحق ولد احترام قریشی، محمد اشرف، محمد سعد، محمد عارف ولد محمد رفیق، محمد رفیق ولد انور علی، شیراز ولد محمد اقبال شامل ہیں۔
دوسری جانب سانحہ میں جاں بحق افراد کی فہرست کے مطابق دم گھٹنے سے 22 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 18 دیگر افراد کی حالت ناساز ہے۔ جنہیں سول اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
جاں بحق افراد میں کاشف ولد یونس،فراز ولد ابرار، محمد عامر ولد نامعلوم، فرقان ولد شوکت علی کے علاوہ 18 لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔
جبکہ حسیب ولد وسیم، وسیم ولد سلیم، دانیال ولد سراج، صادق ولد نامعلوم، حمزہ ولد محمد علی، رحیم ولد گل محمد، فہد ولد محمد ایوب، جواد ولد جاوید، ایان ولد نامعلوم، عبداللہ ولد ظہیر، عثمان ولد اصغر علی، فہد ولد حنیف، زین ولد عبداللہ، نادر ولد نامعلوم سمیت 4 دیگر افراد نامعلوم افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔