بھارت کے شہر اندور میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں سڑک پر بیٹھ کر بھیک مانگنے والا شخص دراصل کروڑ پتی نکلا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اندور کے مصروف بازار میں معذور منگی لال خاموشی سے اپنی ریڑھی پر بیٹھا رہتا تھا، نہ آواز کرتا، نہ بھیک مانگتا، لیکن لوگ خود ہی سکے ڈال دیتے تھے۔
حکومت کی انسدادِ گداگری مہم کے دوران انکشاف ہوا کہ منگی لال روزانہ بھیک سے 400 سے 500 روپے کماتا تھا، مگر اصل آمدنی رات کو ہوتی تھی۔ وہ یہ رقم بازار کے تاجروں کو ایک دن یا ایک ہفتے کے لیے سود پر دیتا اور روزانہ سود وصول کرتا تھا۔
تحقیقات کے مطابق اس کے پاس تین گھر، تین آٹو رکشے اور ایک کار موجود ہے، جبکہ معذوری کے پیش نظر اسے سرکاری مکان بھی ملا ہوا تھا۔ اس کے آٹو رکشے کرائے پر چلائے جاتے ہیں اور کار کے لیے ڈرائیور بھی رکھا ہوا ہے۔
منگی لال نے تفتیش میں بتایا کہ وہ صرافہ بازار کے متعدد افراد کو سود پر رقم دیتا ہے اور روزانہ جا کر سود وصول کرتا ہے۔ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ کسی سے زبردستی پیسے نہیں لیتا، لوگ خود ہی ادا کر دیتے ہیں۔
حکام نے کروڑ پتی گداگر کو شیلٹر ہاؤس منتقل کر دیا ہے اور اس کے تمام اثاثوں کی جانچ جاری ہے۔