دیکھنا سب ہمیں بھول جائیں گے ۔۔ مشہور شخصیات کے آخری الفاظ جو ان کی موت کے بعد وائرل ہو گئے

image

سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات سے متعلق دلچسپ معلومات تو بہت ہیں، جب یہی مشہور شخصیات جب اس دنیا سے چلی جاتی ہیں، تو سب انہیں بھول جاتے ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

عامر لیاقت حسین:

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور میزبان عامر لیاقت حسین کا شمار پاکستان کی مشہور اور معروف شخصیات میں ہوتا تھا۔

اپنے پُر اثر اور خوبصورت الفاظ سے سب کی توجہ حاصل کرنے والے عامر لیاقت حسین کے وہ الفاظ سب کی توجہ حاصل کر جاتے ہیں، جب وہ اس دنیا کی حقیقت کو کھول کر رکھ دیتے ہیں۔

عامر لیاقت حسین نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں ایک نظم کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا۔ عامر نے اپنے پوسٹ میں ایک شعر بھی لکھا تھا، تجھے تیری اوقات اس دن پتہ چلے گی اے انسان! جب لوگ تیری قبر پر مٹی ڈال کر ہاتھ بھی تجھ ہی پر جھاڑیں گے۔

ارشد شریف:

شہید ارشد شریف کا شمار بھی پاکستان کی اُن چند شخصیات میں ہونے لگا جن کے جنازوں نے سب کو حیران کر دیا، عوام کی جانب سے بے پناہ محبت نے شہید کے گھر والوں کو بھی جذباتی کر دیا تھا۔

ارشد شریف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جس دور میں جینا مشکل ہو، اُس دور میں جینا لازم ہے۔

ارشد شریف اگرچہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں، لیکن اس دنیا میں مگن ہر شہری دیگر معاملات می گُم ہو چکا ہے۔

عمر شریف:

مشہور کامیڈین عمر شریف کا گزشتہ برس انتقال ہو گیا تھا، آج دنیا اپنی زندگی میں مگن ہے، اور چاہنے والے بھی صرف برسی کے دن اُس عظیم شخص کو یاد کرتے ہیں۔ لیکن ان کے چند ایسے الفاظ تھے جو ہر ایک کے دل کو چھو گئے تھے۔

عمر شریف کو صرف ایک ہی بات سے گھبراتے تھے اور وہ تھی قبر۔ وہ کہتے تھے کہ کہ مجھے سب سے زیادہ ڈر قبر سے لگتا ہے، کیونکہ یہ انسان پر منحصر کہ اس کی قبر کیسی ہوگی۔

قبر انسان کا کردار بتاتی ہے، جب آدمی اندر جاتا ہے، پسلیاں پسلیوں میں پھنس جاتی ہیں، انسان کچھ بول نہیں سکتا۔ وہ لمحہ ایسا خطرناک لمحہ ہے، اسی لیے قبر وہ ہے جو انسان کے اعمال بتاتی ہے۔

عرفان خان:

عرفان خان اپنے دلچسپ انداز اور بہترین اداکاری کی بنا پر سب کی توجہ حاصل کر جاتے تھے۔ جبکہ صلاحتیوں کی بنا پر مداحوں سمیت عالمی شہرت رکھنے والے عرفان خان کی زندگی بھی کافی دلچسپ رہی ہے۔

ان کا ایک ڈائیلاگ جو دل کو چھو لے لیتا تھا، آج بھی کافی وائرل ہے، محبت تھی اسی لیے جانے دیا، ضد ہوتی تو اب تک میرے پاس ہوتی۔

دراصل یہ ڈائیلاگ ایک محبت کی ایک داستان کا حصہ تھا، لیکن کا ان خط ایسا بھی تھا، جس میں انہوں نے زندگی کے بارے میں اظہارے خیال کیا۔

عرفان کا کہنا تھا کہ میں آپ لوگوں سے یہ شئیر کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی بڑے اور چوڑے حلقوں میں گزاری ہے، جو زمین اور آسمان تک پھیلے ہوئے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ آخری حلقہ میں مکمل نہ کر سکا ہوں، مگر میں نے پوری کوشش کی۔

میں خدا کے ابتدائی مینار کے گرد چکر لگاتا ہوں،

اور میں دس ہزار سال لمبا چکر لگاتا ہوں۔

اور میں ابھی تک نہیں جانتا کہ میں ایک فالکن ہوں،

ایک طوفان، یا ایک نامکمل گانا

دردانہ بٹ:

دردانہ بٹ کا شمار بھی اُن چند اداکاراؤں میں شامل ہیں، جنہوں نے اپنی اداکاری کی بدولت ناظرین اور مداحوں کے دل موہ لیے۔

زندگی سے متعلق دردانہ کہتی تھیں کہ زندگی ایک تکلیف دہ سفر ہے، اور اس تکلیف کو برداشت کرنا سیکھیں۔ میری تکلیف کا مرحم میرا مرشد ہے، صحیح مرشد ملنا خوش قسمتی ہے۔ اللہ کا کرم اسی وقت ہوتا ہے جب بندہ خود اللہ کی طرف آںے کے لیے جدوجہد کرے۔ میں بہت طاقتور ہوں مگر میں حساس بھی ہوں۔

لیکن میرے آپریشن نے مجھے رُلا دیا تھا، میں بہت روئی تھی۔ ہم جب بھی گھبراہٹ کا شکار ہوتے ہیں وہ ایمان کی کمزوری سے ہوتی ہے۔ دردانہ بٹ موت سے متعلق کہتی تھیں کہ ہم موت کے آںے کو یاد نہیں کرتے، سب سے بڑا ڈر یہی ہے کہ موت نے آنا ہے۔ مگر ہم مانتے نہیں ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US