وزیراعظم شہباز شریف نے قومی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور یہ صوبہ پاکستان کا نہایت اہم اور اسٹریٹجک خطہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح قومی سلامتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 2018 میں دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا اور یہ آپریشن ایک اجتماعی قومی فیصلہ تھا، تاہم سوال اٹھایا کہ دہشتگردی دوبارہ کیسے سر اُٹھا سکی؟ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پائیدار امن کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ریاست دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے بھارت کی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دفاع میں مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے سات طیارے مار گرائے اور افواجِ پاکستان نے دشمن کو ایسا سبق سکھایا جو وہ قیامت تک یاد رکھے گا۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان معاشی ترقی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے افغانستان کے حوالے سے متعدد اجلاس ہوئے لیکن افغان طالبان نے کسی بات پر عمل نہیں کیا۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان کسی قسم کی سرد جنگ جاری ہے۔