فخرِ افغان باچا خان کی 38 ویں اور قائدِ جمہوریت خان عبدالولی خان کی 20 ویں برسی کی مناسبت سے ہفتہ باچا خان 2026 کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز باچا خان مرکز پشاور میں ایک پروقار افتتاحی تقریب سے ہوا۔
مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی اور سی ای او باچا خان ٹرسٹ، سینیٹر ایمل ولی خان نے تقریبات کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ موجودہ حالات میں تیراہ کا مسئلہ سب سے سنگین اور سنجیدہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ ذمہ داری کون لے گا کہ دہشتگرد عام لوگوں کے بھیس میں وہاں سے نہیں نکلیں گے؟
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں تحریک لبیک کے خلاف آپریشن ہوا مگر وہاں نقل مکانی نہیں ہوئی، سندھ کے کئی اضلاع میں اغواء برائے تاوان کے واقعات ہوتے ہیں مگر وہاں بھی نقل مکانی نہیں کروائی جاتی، تو کیا نقل مکانی صرف پختون قوم کی قسمت میں لکھی گئی ہے؟
انہوں نے واضح کیا کہ نقل مکانی کا مقصد دہشتگردی کا خاتمہ نہیں بلکہ روزگار، تجارت اور کاروبار پر قبضہ ہے، اور بدقسمتی سے ہماری زمین اور وسائل ہی ہماری قوم کو کھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قوم پر نوسرباز اور ڈرامے باز مسلط ہیں، جنہوں نے خود آپریشن کی منظوری دی اور اب عوام کے سامنے ڈرامے کر رہے ہیں۔ مسئلے کا حل آپریشن اور لوگوں کو گھروں سے بے دخل کرنا نہیں۔
سینیٹر ایمل ولی نے یاد دلایا کہ اے این پی کی حکومت میں مالاکنڈ ڈویژن میں آپریشن کے دوران عوام کو ہر ممکن سہولت دی گئی، انہیں خیموں میں نہیں بسایا گیا بلکہ حالات قابو میں لاکر ریکارڈ مدت میں باعزت واپسی یقینی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان ہو یا نواز شریف، پختونوں کے حوالے سے ان کا رویہ ہمیشہ ایک جیسا رہا ہے، جبکہ پختونخوا میں برسراقتدار لوگ بھی قوم کی فکر کرنے کے بجائے صرف ایک قیدی کی رہائی کو ترجیح دے رہے ہیں۔
آپریشن قبول نہیں تو اقتدار کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟ ایمل ولی
انہوں نے سوال کیا کہ اگر آپریشن قبول نہیں تو اقتدار کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟ رات کو خفیہ ڈیلز اور دن میں عوام کے ساتھ ڈرامے کرنا ناقابلِ قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ آج جنہیں فتنہ الخوارج کہا جا رہا ہے، کل تک وہی مجاہد کہلاتے تھے۔ نظریاتی اور فکری دہشتگردی کا خاتمہ کسی آپریشن سے ممکن نہیں، اسی لیے اے این پی آج ایک بار پھر ٹرتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن کے قیام کا مطالبہ دہراتی ہے۔ جنرل ضیاء سے لے کر عمران خان، باجوہ اور فیض تک سب کا احتساب ہونا چاہیے۔ متاثرہ علاقوں کے لوگ تو نقل مکانی کرلیں گے، مگر دہشتگردی لانے والوں کے خلاف اب تک کیا کارروائی ہوئی؟
دہشتگردی کی آڑ میں قوم کو تباہ کرنے والوں کو عبرتناک سزا دی جانی چاہیے۔ ایک فریق دہشتگرد لانے کے نام پر اور دوسرا دہشتگرد ختم کرنے کے نام پر پختونوں کو تباہ کر رہا ہے، یہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ٹرتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کے ذریعے قوم کو ایک واضح اور شفاف پالیسی دی جائے۔ اے این پی کا مؤقف ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن ہونے چاہئیں، اور اگر ادارے سنجیدہ ہوں تو اس کیلیے لوگوں کو گھر چھوڑنے کی ضرورت ہی نہیں۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات کی بحالی کیلیے اے این پی ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہے اور اگر مسائل کے حل کیلیے ہماری ضرورت پڑی تو ہم ضرور اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حقوق کے حصول کیلیے پختونوں کے پاس اے این پی کے سوا کوئی راستہ نہیں، اور عوام اگر اختیار دیں تو باچا خان کے پیروکار اپنا حق لینا جانتے ہیں، جسے ہم ثابت کرچکے ہیں۔
انہوں نے باچا خان اور ولی خان کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں رہنماؤں نے نہ صرف پشتون قوم بلکہ پورے برصغیر کی سیاست کو ایک نئی اخلاقی سمت دی۔ باچا خان نے تشدد کے دور میں عدم تشدد، شعور اور انسانیت کی سیاست متعارف کرائی، جبکہ خدائی خدمتگار تحریک تعلیم، نظم و ضبط اور اتحاد پر مبنی ایک انقلابی عوامی تحریک تھی۔ ولی خان آئینی، جمہوری اور وفاقی پاکستان کے مضبوط علمبردار تھے، جنہوں نے آمریت کے سامنے کبھی سر نہیں جھکایا اور پارلیمنٹ کو عوام کی آواز بنایا۔
انھوں نے کہا کہ مضبوط پاکستان کی بنیاد مضبوط صوبے، آئین کی بالادستی اور جمہوری سیاست میں ہے، جبکہ قوم پرستی نفرت نہیں بلکہ حقوق اور برابری کی سیاست ہے۔ آج کا تقاضا ہے کہ عدم تشدد، جمہوریت، آئین اور تعلیم کو عملی طور پر اپنایا جائے، کیونکہ باچا خان اور ولی خان کا راستہ ہی امن، عزت اور ترقی کا راستہ ہے۔
افتتاحی تقریب میں ننگیالے پختون کے سالاران نے ملی ترانے کے ساتھ سلامی پیش کی۔ باچا خان ریسرچ سنٹر کے زیر اہتمام شائع ہونے والی نئی کتابوں کی رونمائی کی گئی، جبکہ کتابوں، آرٹ و فن پاروں، مقامی و روایتی مصنوعات اور کپڑوں کے اسٹالز بھی لگائے گئے۔
تقریب میں مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو ایوارڈز بھی دیے گئے۔ تقریب میں مرکزی سینئر نائب صدر داؤد خان اچکزئی، سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد سلیم خان، سیکریٹری مالیات سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان، سیکریٹری خارجہ امور سردار حسین بابک، صوبائی صدر میاں افتخار حسین، جنرل سیکریٹری حسین شاہ یوسفزئی، مرکزی سالار ملک فقیر علی، صوبائی سالار شاکر شینواری، ترجمان ارسلان خان ناظم سمیت مرکزی و صوبائی قیادت، سالاران اور کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔