مجھے فخر ہے، میرے والد اخبار فروش تھے ۔۔ بلوچستان کا اسسٹنٹ کمشنر، جس کے انتقال پر پورا علاقہ رونے لگا

image

انسان کی زندگی کب بدل جائے، کسی کو کچھ خبر نہیں، لیکن کئی افراد ایسے ہیں، جن کے ساتھ پیش آئے حادثات سب کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

بلوچستان کے علاقے خاران سے تعلق رکھنے والے جمیل بلوچ نے اپنے بااخلاق رویے، بلند حوصلے اور درد مندی کی بدولت سب کی توجہ حاصل کر لی تھی۔ نوجوان کی مدد کا جذبہ، بڑوں کا ادب اور سماج میں کچھ کر دکھانے کا عزم لیے جمیل بلوچ اسسٹنٹ کمشنر نامزد ہوئے تھے۔

لیکن بلوچستان کا بہادر بیٹا 12 نومبر کی صبح تیز رفتار کار حادثے میں اپنی جان گنوا بیٹھا، کوئٹہ سے صبح کے وقت اپنے گھر جاتے ہوئے سپنی روڈ تیز رفتار گاڑی بے قابو ہو کر بے نظیر پُل سے ٹکرا گئی، جس میں اسسٹنٹ کمشنر جمیل بلوچ انتقال کر گئے، جبکہ کزن اشفاق زخمی ہوگئے۔

30 سالہ جمیل بلوچ اسسٹنٹ کمشنر لورالائی تعینات تھے، جبکہ ساتھ ہی ڈپٹی کمشنر کا چارج بھی سنبھالے ہوئے تھے۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ فرشتے کے روپ میں آنے والا یہ انسان اس لیے بھی عام انسان کی تکلیف محسوس کر سکتا تھا کیونکہ خود جمیل کے والد بھی اخبار فروش تھے۔

جمیل بلوچ کے والد اُن افسران کے پاس اخبار دینے جاتے تھے تو اب جمیل بلوچ کو جوابدہ ہیں۔ ایک تقریب کے موقع پر جمیل نے بتایا کہ میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ میرا باپ اخبار بیچتا تھا، اخبار فروش والد نے مجھے بہترین تعلیم دی۔ میں ایک پاپڑ فروش بچے کو بھی پڑھایا آج وہ ایک بہترین ریاضی کا طالب علم بن کر ابھرا ہے۔

دوسری جانب جمیل کے بھائی سلیم جاوید نے بی بی سی اردو سے بات چیت میں اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ ایک ماہ کے عرصے میں ہی جمیل کی شادی طے ہونا تھی مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

جمیل بچوں کو تعلی کی فراہمی اور تعلیم کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے دکھائی دیتے تھے، جب ہی وہ تعلیمی اداروں چاہے وہ پھر پرائیوٹ ہو یا پھر سرکاری اسے سپورٹ کرتے دکھائی دیتے تھے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US