“ڈاکٹر صاحب نہ میرا ہات اوپر اٹھتا ہے نہ ہی میں کروٹ کے بل سوسکتا ہوں۔ اس کے علاوہ بازو میں شدید درد رہتا ہے۔ درد کم کرنے والی دواؤں سے بھی فرق نہیں پڑتا“
مریض کی تکلیف سن کر ڈاکٹر نے کچھ دیر معائنہ کیا اور بتایا کہ انھیں فروزن شولڈر کی تکلیف ہے جس کا علاج ممکن ہے۔ آپ نے اکثر بزرگوں کو اسی قسم کی شکایت کرتے سنا ہوگا کہ وہ ایک ہاتھ سے کوئی کام نہیں کرپاتے کیوں کہ ایک بازو کام ہی نہیں کرتا۔ آج کے آرٹیکل میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ فروزن شولڈر کیوں ہوتا ہے اور ڈاکٹر اس کے لئے کیا احتیاط اور علاج تجویز کرتے ہیں۔
فروزن شولڈر یعنی کندھوں کے منجمد ہونے کی کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اوپری بازو (ہومرس)، کندھے کی بلیڈ (سکاپولا)، کالربون (ہانسلی) اور کندھے کے جوڑ کے ارد گرد ٹشو جنھیں کیپسول کہتے ہیں،میں کوئی مسئلہ پیدا ہو۔ کندھوں کا کیپسول موٹا ہوجاتا ہہے اور اسے حرکت دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ جوڑکے ٹشو کے بینڈ بنتے جاتے ہیں اور جوڑوں کو چکنا رکھنے کے لیے ضروری سائینووئل فلوئیڈ نامی مائع کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔ یہ چیزیں حرکت کو اور بھی محدود کرتی ہیں جس کی وجہ سے فروزن شولڈر کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
وجوہات
٤٠ برس سے زائد عمر والے مرد اور خواتین کو فروزن شولڈر ہوسکتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ کندھوں پر گہری چوٹ لگنا، ذیابیطس اور کوئی دائمی مرض ہونا شامل ہیں۔
علاج کے لئے
فروزن شولڈر سے بچنے کے لئے احتیاط میں ذیابیطس کو کنٹرول رکھنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ اس تکلیف کو کم کرنے کے لئے ڈاکٹر فزیوتھیراپی کرواتے ہیں جس میں بازو کو دھیرے دھیرے حرکت دی جاتی ہے۔
اسٹیرائڈز کا انجیکشن بھی لگایا جاتا ہے اور اس کے بعد فزیوتھیراپی کی جاتی ہے اس کے علاوہ مرض کی زیادہ سنگینی کی صورت میں مریض کو اینیستھیزیا کے ذریعے بیہوش کیا جاتا ہے اور اس کے بازو کو حرکت دی جاتی ہے۔
ورزش
فروزن شولڈر کا بنیادی علاج جمے ہوئے بازو کو حرکت دینا ہی ہے جس کے لئے ڈاکٹر ورزش کا مشورہ دیتے ہیں۔ ہاتھوں کو سیدھا کریں اور کلاک وائز حرکت دیں اور پھر اینٹی کلاک وائز۔ دھیرے دھیرے ہاتھوں کو اوپر اٹھانے کی کوشش کریں۔ یاد رکھیں جھٹکا ہر گز نہیں دینا۔
بام لگا کر مساج
اکثر پٹھے سخت ہونے کی وجہ سے بھی کندھے حرکت کرنا بند کردیتے ہیں اس کے لئے کوئی نیم گرم تیل یا بام لگا کر سونے سے پہلے مساج کریں اور اچھی طرح جسم ڈھک کر سوجائیں۔