سوشل میڈیا پر ان دنوں کابل میں پاکستانی سفارتکار پر ہونے والا حملہ زیر بحث ہے، جس میں پاکستانی ہیڈ آف مشن عبید الرحمان نظامانی پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی تھی۔
2 دسمبر کو پاکستانی سفارتخانے سے محض چند قدم کے فاصلے پر موجود ایک عمارت سے حملہ آور نے اسنائپر کے ذریعے حملہ کیا تھا، تاہم نظامانی اس حملے میں محفوظ رہے۔
تاہم ان کے سیکیورٹ پر معمور پاکستانی اہلکار زخمی ہو گیا، ایس ایس جی کمانڈو اصرار محمد پاکستانی سفارتکار کو بچاتے ہوئے خود زخمی ہو گیا، ذرائع کے مطابق اصرار کو دو گولیاں لگیں، لیکن حالت خطرے سے باہر ہے۔
اصرار محمد نے نہ نظامانی کو بچایا بلکہ خود گولی کھا کر حملہ بھی ناکام بنایا، جبکہ ذرائع کا کہنا تھا کہ حملہ منظم طریقے سے کیا گیا تھا۔
دوسری جانب داعش کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی گئی ہے، لیکن پاکستان کی جانب سے آزاد موقف سے ملنے والی معلومات کے بعد ہی اس حوالے سے ردعمل دیا جائے گا۔