ہمارے آس پاس اتنی ایسی کہانیاں ہوتی ہیں جنکا ہمیں علم ہی نہیں ہوتا، آج کل ہر کوٸی اپنی زندگی میں اتنا مصروف ہے کہ اسے دوسرے کے دکھ درد سے کوٸی سروکار ہی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ترقی نہیں کرتا، کیونکہ ایک معاشرہ تبھی ترقی کرتا ہے جب وہاں رہنے والے ایک دوسرے کا خیال کریں۔ پر افسوس ایسے بہت کم لوگ ہیں جو کسی کی تکلیف میں اسکا ساتھ دیں۔
آج ہم آپ کو ایسی ہی ایک کہانی بتانے جارہے ہیں جو یقیناً آپ کو بھی سوچنے پر مجبور کردے گی۔
یہ کہانی ہے بہاولنگر کے شہر سے دور ایک چھوٹے سے گاٶں میں رہنے والے عمر رسیدہ بھاٸی بہن کی، جنھوں نے ایک دوسرے کی خاطر آج تک شادی نہیں کی اور اب ان کی عمر ٨٠ اور ٨٥ سال ہوگٸی ہے۔
یہ دونوں بھاٸی بہن نابینا ہیں، اور کافی عرصہ قبل ان کے والدین بھی انتقال کر چکے ہیں جس کے بعد سے وہ دونوں ہی ایک دوسرے کا سہارا ہیں۔ اس بھری دنیا میں کوٸی نہیں جو ان کا خیال رکھے اور غربت اتنی کہ کھانے کو ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔
جب بوڑھی اماں سے ان کی زندگی کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ، میں اپنے بھاٸی کے ساتھ ہی رہتی ہوں اور چونکہ ہمیں نظر نہیں آتا اس کی وجہ سے کافی مشکلات پیش آتی ہیں۔ ہمارا ایک بھتیجا ہے جس کی بیوی تھوڑا بہت خیال کر لیتی ہے ورنہ کوٸی بھی ہمیں دیکھنے والا نہیں، کبھی کبھی تو یہ حالت ہوجاتی ہے کہ کچھ بھی نہیں ہوتا کھانے کو تو میں پانی میں چاٸے کی پتی ڈال کر بھاٸی کو پلا دیتی ہوں اور خود بھی اسی پر گزارہ کرتی ہوں۔
ان کی غربت کا یہ عالم ہے کہ سخت سے سخت سردی میں بھی ان کے پاس پہننے کو گرم کپڑے نہیں ہیں، اور نہ ہی کوٸی پڑوسی ان کا خیال کرتا ہے۔ جسم پر جگہ جگہ چوٹ کے نشان ہیں جو بڑھاپے اور نہ دکھاٸی دینے کی وجہ سے گرنے سے لگے ہیں۔
یہ ہم سب کیلیئے سوچنے کا مقام ہے, اگر ان بوڑھے اور نابینا بھائی بہن کے پڑوسی یا رشتہ ان کا خیال کرتے تو آج ان کی یہ حالت نہ ہوتی. اسلیئے اپنے آس پڑوس والوں کا خیال کریں یہ بھی ایک صدقہ اور نیک عمل ہے