رات گئے پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر ہل چل مچ چکی ہے، جہاں گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کر دیا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے جہاں سیاسی گہم گہمی بڑھ گئی ہے وہیں آئینی بحران کا بھی خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
سینئر صحافی حامد میر کی جانب سے اسی حوالے سے دلچسپ طرف نظر دوڑائی ہے، اپنے ٹوئیٹ میں سینئر صحافی نے لکھا کہ پنجاب اسمبلی کے آرٹیکل 209 اے کا کیا ہوگا؟ اسپیکر نے گورنر کے آرڈر کے خلاف پہلے ہی رولنگ دے دی ہے، اس بارے میں بھی بتائیں۔
ساتھ ہی صحافی نے آرٹیکل 209 اے کی تصویر بھی شئیر کی، جو کہتا ہے کہ اگر اسپیکر ہاؤس کے فلور پر کوئی بھی رولنگ دے، تو اس پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا ہے اور اسے حتمی سمجھا جائے گا۔
سینئر صحافی نے یہ بات اس وقت کی جب گورنر پنجاب نے ٹوئیٹ کے ذریعے وزیر اعلیٰ پنجاب کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا۔
واضح رہے اسپیکر کی رولنگ کے بعد گورنر پنجاب نے یہ نوٹیفیکشن جاری کیا ہے، جو کہ آئینی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔