قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2025 کثرت رائے سے منظور کر دیا۔ بل کے تحت اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے مشتہر کرنے کی منظوری دیں یا مخفی رکھنے کی درخواست پر رولنگ جاری کریں۔
ترمیمی بل پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ بل کے مطابق انتخابی گوشواروں سے متعلق کسی سوال یا تنازع کی صورت میں معاملہ وفاقی آئینی عدالت میں لے جایا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق اسپیکر یا چیئرمین سینیٹ اثاثے مخفی رکھنے کی درخواست کی وجوہات تحریری طور پر بیان کریں گے اور اس سے متعلق کارروائی ان کے چیمبر میں ہوگی۔ درخواست کی بنیاد ارکان کی جان و مال کو لاحق خطرات ہوگی اور رولنگ صرف ایک سال کے لیے اثاثے مخفی رکھنے کی اجازت دے سکتی ہے۔