بچپن کی ایسی کئی یادیں ہیں جو کہ اب جب جوانی میں یاد کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ بچپن کے زمانہ کتنا اچھا تھا۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو چند ایسی ہی بچپن کی یادگار چیزوں کے بارے میں بتائیں گے۔
اس تصویر میں پلاسٹک کا کیمرہ اگرچہ بچوں کے لیے کھلونے کی حیثیت رکھتا ہے مگر بچپن میں پہلی بار اسی کیمرے کی مدد سے ہماری آنکھ سے خانہ کعبہ اور روضہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت کی تھی۔ جس کے بعد اس منظر کو براہِ راست دیکھنے کی طلب جاگی۔
صرف یہی نہیں بلکہ بچپن میں ہم اکثر قنچوں سے کھیلا کرتے تھے، یہ قنچے جب کبھی نظر آتے ہیں تو بچپن کی یاد کو تازہ کر دیتے ہیں۔ کیونکہ بچپن کے اُن دنوں میں دوپہر کے وقت گلی میں اپنے بچپن کو گزارنا ایک خاص لمحہ ہوتا تھا۔
ایک اور یاد یہ بھی تھی کہ رنگین لٹو جو لکڑی کا بنا ہوا ہوتا تھا۔ وہ بھی سب کی توجہ حاصل کرتا تھا، اور پھر جب چار پانچ دوست ملتے تھے، تو پھر مقابلہ ہوتا تھا اور مقابلے کے ساتھ ہی دوستوں سے ساتھ ایک شگل میلہ بھی لگ جاتا تھا۔
لکڑی سے بنی چیزوں کی بات ہو رہی ہے، تو گاؤں دیہاتوں میں لکڑی سے بنے کھلونے بھی کافی توجہ حاصل کرتے تھے۔
ایسا ہی ایک کھلونا تھا دو پہیوں والی دھولکی گاڑی، جس کو چلانے سے ڈھول جیسی آواز نکلتی تھی۔ یہ دیسی کھلونا بھی بچوں کی خوب توجہ حاصل کرتا تھا، جبکہ آج کے دور کے جوان اپنے بچپن کی اس خوبصورت یاد کو تازہ کرتے ہوئے انہی یادوں میں کھو جاتے ہیں۔
ایک زمانہ تھا کہ جب پلاسٹک کی بوتلوں کے بجائے کولڈ ڈرنکس کی بھی قانچ کی بوتلیں ہوتی تھیں، جو کہ بڑے ہی احتیاط سے استعمال کی جاتی تھیں۔