پانی کے بیچوں بیچ بنی یہ سادہ مگر پروقار مسجد سیاحوں کے لئے کشش کے ساتھ ساتھ حیرت کا باعث بھی ہے۔ پانی والی مسجد کے نام سے مشہور یہ عبادت گاہ اپنے اندر تاریخ کا وسیع باب بھی رکھتی ہے۔
یہ مسجد ضلع شکارپور کی تحصیل گڑھی یاسین کے گاؤں امروٹ شریف سے کچھ میٹر کے فاصلے ہر موجود ہے۔ یہ مسجد تھر کینال پر موجود ہے.
مسجد کی حفاظت
بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ یہ مسجد ہی انگریز حکومت کے خلاف مزاحمت کی وجہ بنی۔ جب انگریز حکومت نے سکھر بیراج اور کینال پراجیکٹ شروع کیا تو درمیان میں آنے والی اس مسجد کی شہادت کا منصوبہ بنایا۔ حضرت مولانا تاج محمود امروٹی نے بہت کوشش کی کہ انگریز اس فیصلے سے باز رہیں مگر ان کی ہر کوشش بیکار رہی۔تاج نے انگریز حکومت سے لڑائی کی ٹھان لی اور ہزاروں لوگوں پر مشتمل ایسی جماعت قائم کی جو گرہوں کی صورت میں مسجد کی دن رات حفاظت کرتے تھے اس طرح انگریز اسے شہید نہ کرسکے لیکن تب تک عوام میں انگریزوں کے خلاف نفرت کا بیج جڑ پکڑ چکا تھا۔ یہ وہی جذبہ تھا جس کے تحت ہندو اور مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی۔
مسجد پانی میں کیسے آئی؟
بعد میں انگریزوں نے کھیر تر کینال کو مسجد کے اطراف سے گزارا جس کی وجہ سے مسجد پانی سے گھر گئی۔