سال 2023 کن 6 ستاروں کے لیے بدقسمت سال ثابت ہوگا؟ ماہرین نے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے معلومات بتا دیں

image

سال 2022 اختتام پزیر ہونے میں چند دن رہ گئے ہیں، بہت سے لوگوں کے لیے یہ سال خوش قسمتی کا باعث تو بہت سے لوگوں کے لیے یہ سال پریشانیوں کا سب بنا۔

اب 2023 کی آمد ہونے والی ہے اور اس آرٹیکل میں ہم جانیں گے کہ آئندہ آنے والا سال کونسے ستاروں کے لیے پیسوں اور محبت کے حوالے سے برا سال ہوسکتا ہے۔

ستاروں کا حال بیان کرنے والے ماہرین کی جانب سے 12 ستاروں میں سے 6 ستاروں کو دو الگ حصوں میں تقسیم کر کے ان کے حوالے سے معلومات بتائی گئی ہے۔

محبت کے حوالے سے بد قسمت ستارے یہ ہوسکتے ہیں

ماہرین نے آنے والے سال میں محبت کے لیے بدقسمت ستارے والے برجوں میں سے برج جوزا، برج جدی اور برج حمل کا انتخاب کیا ہے۔ 2023 میں انہیں پیار اور غیر مشروط محبت حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی۔

ماہرین کے مطابق اس فہرست میں پہلے نمبرپر برج حمل والے افراد ہیں جو اپنی عزت نفس کی وجہ سے محبت کے حوالے سے مسائل کا شکار ہوں گے۔ پھر اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو کسی ایسے شخص کے ساتھ جو ان کے جذبات کی ضرورت نہیں رہے گی، یہی نہیں برج حمل سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی عزت نفس کی وجہ سے درست ساتھی کے انتخاب میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

پیسوں کے حوالے سے بدقسمت ستارے

ماہرین کے مطابق 2023 میں کچھ ایسے ستارے ہیں جو پیسے جمع کرنے میں ناکام رہیں گے، اس کے بجائے ان ستاروں سے تعلق رکھنے والے افراد ایسی جگہوں پر پیسہ خرچ کریں گے جو ان کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا۔

ماہرین نے ان تینوں برجوں کے لیے مبرج حمل، برج میزان اور برج دلو کا انتخاب کیا ہے جس کے مطابق یہ تینوں برج 2023 میں پیسے کو اہمیت نہیں دیں گے۔ سال 2023 میں تجربات، سفر، ایڈونچرز اور مشاغل اگلے سال زندگی میں ان برجوں کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ ان برجوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بے دریغ پیسہ خرچ کریں گے۔

ماہرین کے مطابق تین ستاروں میں کوبب تبدیلیوں کو برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے سب سے بدقسمت ستارہ ثابت ہوگا۔ برج دکو سے تعلق رکھنے والے افراد اگلے سال نئی ملازمت کی تلاش میں ہوں گے اور ساتھ ہی دوستوں سے قرض کی تلاش میں ہوں گے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US