پاکستانی عوام کے پاس ہر مسئلے کا حل ہے اور اگر کراچی والوں کی زبان میں بولیں تو "جوگاڑ" موجود ہے۔ ہماری عوام کوئی نہ کوئی طریقہ نکال ہی لیتی ہے، چاہے وہ گرمیوں میں خود کو گرمی سے بچانا ہو یا پھر سردی میں خود کو گرم رکھنا ہو۔
پاکستان کے سرحدی علاقوں میں چونکہ سردی بہت زیادہ ہوتی ہے اسلیئے وہاں کے لوگ اپنے آپ کو سردی کی شدت سے بچانے کے لیئے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔
سوات، جو اپنی خوبصورتی اور قدیم روایات کی وجہ سے پاکستان کی سیاحت میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے وہاں کے لوگ بھی اس بار سردی سے کافی متاثر ہوئے ہیں۔ چونکہ پوری دنیا ہی اس وقت گلوبل چینجنگ کا سامنا کر رہی ہے تو اس کے اثرات بھی سب کو ہی بھگتے ہونگے۔
لیکن سوات کے مقامی لوگوں نے اس کا بھی حل تلاش کرلیا ہے۔
سوات، مینگورہ میں شدید سردی کی وجہ سے وہاں کے شہری نے اپنے ڈھابے پر کھانا مٹی کے برتنوں میں بنانا شروع کردیا۔ پھر چاہے وہ ساگ ہو، کڑاہی ہو یا پھر کڑھی سب کچھ مٹی کے برتن میں تیار کیا جارہا ہے۔ اور آنے والے مقامی لوگ اور سیاح بھی انھی مٹی کے برتنوں میں کھانا کھا رہے ہیں۔ اسکے علاوہ یہ کھانا اصلی گھی اور مکھن کے تڑکے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔
دیکھیئے سماء کی یہ ویڈیو
وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ، یہ ایک اچھا اور منفرد طریقہ ہے جو کہ کافی پسند کیا جارہا ہے۔ کیونکہ مٹی کے برتنوں میں کھانا زیادہ دیر تک گرم رہتا ہے اور اسکی تاثیر بھی بڑھ جاتی ہے۔
کچھ کا کہنا تھا کہ، اس انداز میں کھانا کھا کر پرانے وقتوں اور پرانی روایات و ثقافت کی یاد تازہ ہوگئی۔