قید ہو کر بھی لاکھوں کما رہا ہے ۔۔ سینٹرل جیل میں پچھلے 10 سالوں سے قید کاٹنے والا یہ شخص کس طرح لاکھوں روپے کما رہا ہے؟ دلچسپ کہانی

image

وہ کہتے ہیں ناں کہ مشکلیں اتنی پڑیں کہ آساں ہوگئیں۔۔ انسانی فطرت بھی کچھ ایسی ہی ہے جب کسی پر مشکل وقت آتا ہے تو انسان وہ کام بھی سیکھ لیتا ہے جس کا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔ آج کی ہماری اسٹوری بھی ایسے ہی ایک شخص کے بارے میں ہے، تو آئیے جانتے ہیں

اعجاز، کراچی میں قائم سینٹرل جیل کا قیدی ہے جو2013 میں 10 سال قید کی سزا کے بعد یہاں لایا گیا تھا۔ اور آج وہ جیل میں رہ کر ہی اپنا اور اپنے گھر والوں کا خرچہ چلا رہا ہے۔ مگر کیسے؟

اعجاز نے اپنی جیل کی زندگی کے بارے میں بتایا کہ، جب وہ یہاں آیا تھا تو شروع شروع میں سب عجیب تھا، لیکن پھر میں نے آرٹس ایکٹیویٹی میں حصہ لیا، چونکہ ایمبروڈری کا مجھے پہلے ہی شوق تھا اسلیئے سب سے پہلے میں وہ سیکھی۔ اس کے بعد میرا رجحان ان چیزوں میں بڑھتا گیا اور آہستہ آہستہ میں پینٹنگ کی جانب آیا۔

ہمارے یہاں ایک استاد تھے انہوں نے مجھے پینٹنگ سیکھانا شروع کی، اور سیکھتے سیکھتے میری دلچسپی اس میں اتنی بڑھ گئی کہ میں جلد ہی ایک اچھا پینٹر بن گیا۔ پھر میں نے تھری ڈی پینٹنگ بھی سیکھی، اب میں مختلف طرح کی پینٹنگز بنا لیتا ہوں جن میں کچھ تھری ڈی ہوتی ہیں، کچھ میں موتی اور کرسٹل کا کام ہوتا اور کچھ میں ایمبروڈری۔

اعجاز سے جب انکی فیملی کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ، میں شادی شدہ ہوں اور دو بچے ہیں جن میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہے، اور میں یہیں سے ان کا خرچہ بھیجتا ہوں۔ مجھے ان کی بہت یاد آتی ہے وہ اکثر مجھ سے ملنے جیل آتے ہیں۔

اپنی کمائی کا بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ، میری پینٹنگز پاکستان کے علاوہ باہر ممالک میں بھی آکسشن کے لیئے جاتی ہیں، اور وہاں سے مجھے آرڈر بھی ملتے ہیں۔ میری کچھ پینٹنگز 30 ہزار، کچھ 50 ہزار جبکہ کچھ تو لاکھوں میں سیل ہوجاتی ہیں۔

اعجاز کے مطابق، اگر وہ جیل نہ آتے تو آج بھی کسی نہ کسی غلط کام میں ملوث ہو کر دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہوتے۔ جیل آنے کے بعد میری زندگی کو مقصد مل گیا ہے، اب میں محنت سے حلال روزی کما رہا ہوں، جس کی مجھے خوشی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US