ہم خودکش بمبار ہیں، قوم کے سامنے سارا تماشہ کھول دیں گے، فیصل واوڈا

image

سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ وہ اگلا الیکشن آزاد امیدوار کی حیثیت سے لڑیں گے، دو بچے اپنے والدین سے فرمائش کررہے ہیں کہ انہیں وزیراعظم بنا دیں، پردے کے پیچھے بہت کچھ ہورہا ہے شاید قوم کو نہیں پتہ، نتائج کا انتظار کریں۔

نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے وزیراعظم کے بننے میں زیادہ ہاتھ آزاد ارکان اور ٹولوں کا ہوگا۔ دھڑوں میں گروپوں میں نئی پارٹیوں میں تقسیم ہوجائے گی، انتخابات وقت پر نہیں ہوں گے مگر ہوجائیں گے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیلٹ کے اندراور الیکشن کا حصہ نہیں ہوں گے اور نہ پی ٹی آئی ہوگی۔

فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ‘پرویز خٹک اپنا گروپ بنائیں گے، استحکام پاکستان پارٹی میں نہیں جائیں گے۔ دو بچے اپنے والدین سے فرمائش کررہے ہیں کہ ہمیں وزیراعظم بناد دیں لیکن انہیں وزیراعظم بنتا نہیں دیکھ رہا۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک ٹائم آئے گا میں آپ کو کچھ فرمائشی ویڈیوز دوں گا، پولیس والوں کو کہہ رہے ہیں ہمیں گاڑی میں بٹھا لو، ہمیں کھانا کھلا دو، اِدھراُدھر بیٹھے ہوئے ہیں اور آکر کہہ رہے ہیں کہ ہمیں گرفتار کرلیا۔

پی ٹی آئی کے سابق رہنما علی زیدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ قسمیں کھانے والے آپ نے ٹی وی پر دیکھے تھے جنہوں نے کہا تھا کہ پیشانی پر گولی ماریں گے تب بھی میں نہیں جاؤں گا۔ اگر یہ مان لیں کہ کسی نے جبر کرکے آپ سے پارٹی چھڑوا لی تو کیا جبر کرکے آپ کو دوسری پارٹی میں بھی ڈلوا دیا؟

پی ٹی آئی کے سابق رہنما نے کہا کہ ‘میں کسی ذمہ داری کے تحت بہت زیادہ چیزیں نہیں کھول سکتا۔ میں آپ جیسے لوگوں کے سامنے اپنی آواز اٹھاؤں گا، سب کچھ بتاؤں گا۔ چاہے وہ ارشد شریف کا قتل ہو اس میں جو جو لوگ ملوث ہوں۔ یہ پورا گیم رچانے میں کیا ہوا کرپشن میں کیا ہوا پاکستان کی بنیادیں ہلانے میں کیا ہوا سب بتاؤں گا۔

فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ پردے کے پیچھے بہت کچھ ہورہا ہے، شاید قوم کو نہیں پتہ، اس کے نتائج کا انتظار کریں، نہیں ہوا تو پھر ہم جیسے آگے آجائیں گے۔ ہم تو خودکش بمبار ہیں، پاکستانی قوم کے سامنے سارا تماشہ کھول دیں گے۔


News Source   News Source Text

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US