اسلام آباد ہائیکورٹ بار، اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار اور اسلام آباد بار کونسل نے حکومت کے مجوزہ آئینی پیکیج کو مسترد کرتے ہوئے مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد کی وکلاء تنظیموں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں مجوزہ آئینی ترامیم کیخلاف 7 اکتوبر کو دن 11 بجے آل پاکستان وکلاء کنونشن کرانے کا اعلان بھی کیا ہے۔
اکتوبر کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں آئینی ترامیم دوبارہ لائیں گے ، عرفان صدیقی
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد بار کونسل کے صدر علیم عباسی نے کہا کہ مخصوص شخصیات کے لیے مخصوص سیاسی جماعتیں بدنیتی پر مبنی ترامیم کر رہی ہیں ، حکومت کو 6 ججز کا خط پسند نہیں آیا تو ان کو ٹھکانے لگانے کے لیے ترامیم کی جا رہی ہیں۔ ہم اس کیخلاف بھرپور مزاحمت کریںگے۔
مجوزہ آئینی ترامیم میں20سے زائد شقیں شامل ،تفصیلات سامنے آگئیں
انہوں نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے آرٹیکل 63 اے پر نظرثانی درخواست واپس لینے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بار اسٹیک ہولڈر نہیں تو کیوں نظرثانی دائر کر رہی ہے۔