مونس علوی کے خلاف ہراسانی کا کیس لڑنے والے وکیل کا بیان بھی سامنے آگیا

image

کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کے خلاف صوبائی محتسب میں ہراسانی کا کیس لڑنے والے درخواست گزار خاتون کے قانونی مشیر بیرسٹر طلال واسف قوی نے کہا ہے کہ محتسب کا فیصلہ واضح پیغام ہے کہ اختیار اور طاقت بدسلوکی کا تحفظ نہیں کرسکتے۔

بیرسٹر طلال واسف قوی نے بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ جو شخص اس قوم کی بیٹیوں کی عزت نہیں کرتا، وہ کسی بھی سرکاری یا نجی عہدے پر فائز رہنے کا حقدار نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر میں بے شمار محنت کش خواتین ہراسانی کو خاموشی سے برداشت کرتی ہیں، یہ مقدمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں اب مزید خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، انصاف ممکن ہے۔ یہ فیصلہ ان تمام خواتین کے لیے امید کی کرن ہے جنہیں اب تک خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا۔

ہم ان تمام خواتین کے ساتھ کھڑے ہیں جو آواز بلند کرتی ہیں، اور جب تک ہر کام کی جگہ پر عزت، وقار اور تحفظ یقینی نہ ہوجائے، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

یاد رہے کہ درخواست گزار خاتون کے مطابق ان کی 2019 میں کے الیکٹرک میں بطور چیف مارکیٹنگ آفیسر تقرری ہوئی تھی جس کے بعد مونس علوی انہیں بارہا رات کے کھانے پر ساتھ جانے کے لیے مجبور کرتے رہے۔ خاتون نے الزام لگایا کہ مونس علوی ان کے جسمانی خد و خال پر نازیبا جملے بھی کستے تھے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US