انڈیا کی خارجہ پالیسی بیک وقت دو کیمپوں پر مشتمل ہے۔ ایک جانب یہ واشنگٹن کے انڈو-پیسفیک گروپ ’کواڈ‘ میں شامل ہے۔ اس میں امریکہ کے علاوہ آسٹریلیا اور جاپان بھی ہیں۔ تو دوسری جانب یہ روس اور چین کی قیادت میں شنگھائی تعاون تنظیم ایس سی او کا بھی رُکن ہے۔ اب ایس سی او اجلاس میں انڈیا کی خارجہ پالیسی ایک کڑے امتحان سے دوچار ہو گی۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے انڈیا پر ٹیرف لگانے کے معاملے پر دونوں ملکوں کے تعلقات میں سرد مہری پائی جاتی ہے’یہ وقت ہے کہ امریکہ کے ساتھ روابط مضبوط کریں۔ چین کے ساتھ معاملات کو دیکھیں۔ یورپ کے ساتھ تعلقات کو وسعت دیں اور روس کو کچھ یقین دہانیاں کرائیں۔ پڑوسیوں کے ساتھ نئی صف بندیاں کریں۔‘
یہ الفاظ انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر نے سنہ 2020 میں چھپنے والی اپنی کتاب ’دی انڈیا وے: سٹریٹجیز فار این ان سرٹین ورلڈ‘ میں لکھے تھے۔
گذشتہ ایک دہائی سے انڈیا نے دنیا میں تیزی سے بدلتے عالمی منظر نامے میں چین پر نظر رکھتے ہوئے واشنگٹن اور ماسکو کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔
لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ میں سب کچھ بدل گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب انڈیا کی تعریف کے بجائے اسے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا الزام ہے کہ انڈیا، روس سے تیل خرید کراسے میدان جنگ میں مدد دے رہا ہے۔ دلی کو اب صدر ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے اضافی ٹیرف اور بار بار انڈیا پر تنقید جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔
بہت سے ماہرین کا یہ خیال ہے کہ وزیر اعظم مودی کی اتوار کو چینی صدر کے ساتھ طے شدہ ملاقات سفارتی محاذ پر انڈیا کی نئی صف بندی ہے۔ لیکن اس کے باوجود انڈیا کی خارجہ پالیسی ایک مشکل دوراہے پر کھڑی ہے۔
انڈیا کی خارجہ پالیسی بیک وقت دو کیمپوں پر مشتمل ہے۔ ایک جانب یہ واشنگٹن کے انڈو-پیسفیک گروپ ’کواڈ‘ میں شامل ہے۔ اس میں امریکہ کے علاوہ آسٹریلیا اور جاپان شامل ہیں۔ تو دوسری جانب یہ روس اور چین کی قیادت میں شنگھائی تعاون تنظیم ایس سی او کا بھی رُکن ہے۔
ایس سی او کو خطے میں امریکی مفادات کا مقابلہ کرنے والے بلاک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
امریکی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے باوجود انڈیا سستا روسی تیل خریدتا ہے۔ اب انڈیا تیانجن میں ایس سی او کی میز پر بیٹھنے کی تیاری کر رہا ہے۔
انڈیا اسرائیل، امریکہ اور متحدہ عرب امارات پر مشتمل گروپ I2U2 کا بھی حصہ ہے جس کا مقصد ٹیکنالوجی اور فوڈ سکیورٹی جیسے معاملات پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ جبکہ یہ فرانس اور امارات کے ساتھ ایک سہ فریقی گروپ کا بھی حصہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سارے معاملات کے دوران انڈیا کی جانب سے توازن قائم رکھنا اچانک نہیں ہے۔ انڈیا کا یہ موقف رہا ہے کہ سٹریٹجک خودمختاری اور مقابلہ کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے سے اسے فائدہ ہوتا ہے۔
سابق انڈین سفارت کار جتیندرا ناتھ مشرا کہتے ہیں کہ ’انڈیا کسی بڑی طاقت کے ساتھ اتحاد کر کے شاید اتنا پراعتماد نہ ہو۔ لیکن ایک ریاست کے طور پر انڈیا یہ چاہتا ہے کہ وہ تاریخ کی دیگر عظیم طاقتوں کے نقش قدم پر چلے، جنھوں نے اس مرتبے کو خود حاصل کیا تھا۔‘
فروری میں وائٹ ہاؤس میں مودی کی ٹرمپ سے ملاقات کے بعد سے انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ ہےیقینی طور پر، انڈیا کے عالمی عزائم اب بھی اس کی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
اس کی چار کھرب ڈالرز کی معیشت اسے پانچویں سب سے بڑی قوت بناتی ہے، لیکن یہ چین کے 18 کھرب ڈالرز اور امریکہ کی 30 کھرب ڈالرز کی معیشت کا ایک حصہ ہے۔ انڈیا ہتھیاروں کا دنیا کا دوسرا بڑا خریدار ہے۔ جبکہ یہ ہتھیاروں کے پانچ بڑے ایکسپورٹرز تک میں شامل نہیں ہے۔
انڈیا کی جانب سے مقامی سطح پر خود انحصاری کی کوششوں کے باوجود مقامی پلیٹ فارمز محدود ہیں اور سب سے زیادہ قیمتی فوجی ٹیکنالوجی درآمد کی جاتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہی وہ معاملہ ہے جو انڈیا کی سفارت کاری کو ایک نئی جہت دیتا ہے۔
بہت سے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سنہ 2020 کے سرحدی تنازعے کے بعد انڈیا اور چین کے تعلقات میں کچھ بہتری آ رہی ہے۔ لیکن اب بھی انڈیا کا چین کے ساتھ تجارت میں 99 ارب ڈالرز کا خسارہ ہے جو اس کے 2025-2026 کے دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔
دونوں ملکوں کے تعلقات پر زور دیتے ہوئے دلی میں چین کے ایلچی شو فین ہونگ نے حال ہی میں ایک بیان میں انڈین مصنوعات پر ٹیرف لگانے کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ کو ’دھمکانے والا‘ قرار دیا تھا۔
گزشتہ ہفتے، چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے دلی کے دورے مفاہمانہ انداز اپناتے ہوئے کہا تھا کہ پڑوسیوں کو ایک دوسرے کو ’شراکت دار‘ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
پھر بھی ناقدین یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ انڈیا اب بیجنگ کے ساتھ سٹریٹجک ڈائیلاگ شروع کرنے کا انتخاب کیوں کر رہا ہے؟
عالمی اُمور کے ماہر ہیپیمون جیکب اپنی ایکس پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ انڈیا کے پاس ’متبادل کیا ہے‘ اسے آنے والی دہائیوں کے دوران چین کے ساتھ ہی اپنے معاملات کو دیکھنا ہو گا۔
اخبار ہندوستان ٹائمز میں لکھے گئے اپنے مضمون میں مسٹر جیکب کا کہنا تھا کہ روس اور چین کے ساتھ انڈیا کے بڑھتے تعلقات انڈیا کی پالیسی میں وسیع تر تبدیلی کی عکاسی ہے۔
جیکب کہتے ہیں کہ انڈیا کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے بغیر چین، انڈیا اور امریکہ کی جاری مخاصمت سے زیادہ فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔
لیکن اب بھی سوال یہ ہے کہ بڑی طاقتیں واقعی کس حد تک مفاہمت کر سکتی ہیں؟
اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے ہوور انسٹی ٹیوشن کے سُمت گنگولی کہتے ہیں کہ امریکہ اور چین کی دُشمنی میں مصالحت کا دُور، دُور تک کوئی امکان نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اندیا کو بھی اس بات کا ادراک ہے اور اسی لیے وہ چین کے ساتھ قربتیں بڑھا کر ایک طرح سے امریکہ کو پیغام دینا چاہتا ہے۔
2024 میں روس میں برکس سربراہی اجلاس میں مودی، پوتن اور شیجب بات روس کی ہو تو انڈیا نے امریکی دباؤ پر کم ہی جھکاؤ دکھایا ہے۔ اس کی توانائی کی ضروریات اور سلامتی کے لیے ماسکو سے سستا خام تیل مرکزی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔
جے شنکر نے حال ہی میں ماسکو کا دورہ کیا اور یہ عندیہ دیا کہ مغربی پابندیوں اور روس کے چین پر انحصار کے باوجود دلی ماسکو سے تعلقات بہتر رکھے گا۔ یہ انڈیا کے لیے نہ صرف توانائی کی لائف لائن ہے بلکہ اس کی خودمختار خارجہ پالیسی کی بھی یاد دہانی ہے۔
گنگولی کا کہنا ہے کہ انڈیا دو وجوہات کی بنا پر روس سے تعلقات گہرے کر رہا ہے: اسے ماسکو اور بیجنگ میں مزید قربت کا خدشہ ہے اور ٹرمپ کی موجودگی میں دلی اور واشنگٹن کے تعلقات میں سردمہری آئی ہے۔
ٹرمپ بار بار یہ دعوے کرتے ہیں کہ انھوں نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان سیزفائر کروایا اور اس دعوے نے دلی کو ناراض کیا ہے۔ امریکہ اور انڈیا کے درمیان کوئی بڑا تجارتی معاہدہ رُک گیا ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق امریکہ انڈیا کی زرعی منڈیوں تک وسیع رسائی چاہتا ہے۔
ٹرمپ نے عوامی سطح پر سستے روسی تیل کا معاملہ چھیڑا ہے جس نے تعلقات کو مزید خراب کیا ہے۔ انڈیا کا موقف ہے کہ اس سے زیادہ روسی تیل تو چین خریدتا ہے۔
تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ سنگین اختلافات پر بھی تعلقات ختم نہیں ہوئے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان اس سے بھی وسیع مفاد موجود ہیں۔ مشرا کا کہنا ہے کہ 'ہم نے سب سے بڑے چیلنج کا مقابلہ کیا اور اس کے بعد اُس سے بھی بڑے چیلنج کا۔'
وہ انڈیا کی جانب سے 1974 اور پھر 1998 کے ایٹمی دھماکوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں جب واشنگٹن نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس اقدام نے دلی کو تنہا کیا اور کئی برسوں تک تعلقات معطل رہے۔
مگر ایک دہائی سے کم عرصے بعد دونوں ملکوں نے تاریخی ایٹمی معاہدہ کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سٹریٹیجک مفادات کے لیے دونوں ملک اپنے درمیان عدم اعتماد ختم کر لیتے ہیں۔
مبصرین کے لیے تعلقات میں بہتری کب آئے گی سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس بار اس کی نوعیت کیا ہوگی۔
'فارن افیئرز' کے لیے اپنے مضمون میں خارجہ امور کی ماہر ایشلی ٹیلس کا کہنا ہے کہ کسی ایک طاقت کی بجائے سبھی طاقتوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے سے انڈیا کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
ان کا مشورہ ہے کہ چین کو محدود رکھنے کے لیے انڈیا کو واشنگٹن کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کے مطابق دلی کا اس معاملے میں انکار پڑوس میں 'دشمن سپر پاور' کو مضبوط کر سکتی ہے۔
بیجنگ اور واشنگٹن میں سابق انڈین سفیر نیروپما راؤ کا کہنا ہے کہ انڈیا کبھی ایک عظیم طاقت کے ساتھ تعلقات رکھ کر خود کو محدود نہیں کرے گا۔ اس کی روایات اور مفادات لچک مانگتے ہیں۔ دنیا میں کوئی دو واضح کیمپ نہیں بلکہ یہ پیچیدہ معاملہ ہے۔ ان کے مطابق یہ سٹریٹیجک لچک اس کی کمزوری نہیں بلکہ خودمختاری کو ظاہر کرتی ہے۔
مگر ایک واضح چیز یہ ہے کہ دلی چین کی سربراہی میں اور روسی حمایت والا 'غیر امریکی ورلڈ آرڈر' نہیں چاہتا۔
گنگولی کے مطابق 'آسان لفظوں میں یہ کہ انڈیا کے پاس محدود راستے ہیں۔ چین کے ساتھ تعلقات میں بحالی کے وسیع امکانات نہیں۔ دشمنی باقی رہے گی۔'
ان کی رائے میں روس پر صرف ایک حد تک اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ واشنگٹن کی بارے میں انھوں نے کہا کہ 'ٹرمپ مزید تین سال تک صدر رہیں گے۔ مگر امریکہ-انڈیا شراکت قائم رہے گی۔ صرف ٹرمپ کے موڈ کی وجہ سے تعلقات ختم نہیں ہوسکتے، یہ کئی معاملات کا سوال ہے۔'
کچھ لوگ اس سے متفق ہیں: انڈیا کے پاس بہترین راستہ یہی ہے کہ درد برداشت کرے۔
مشرا کا کہنا ہے کہ 'انڈیا کے پاس یہی بہتر راستہ ہے کہ امریکی دباؤ برداشت کر کے طوفان گزرنے دے۔'
آخرکار انڈیا کے پاس سب سے بہتر راستہ اس کا سٹریٹجک صبر ہے کیونکہ طوفان آتے رہتے ہیں اور شراکت دار لوٹ آتے ہیں۔