سائنسدان ولارڈ لیبی کو جب سیوریج میں تابکار کاربن کے نمونے ملے تو انھیں لگا کہ اس کی مدد سے وہ کسی بھی نامیاتی مادے کی عمر کا پتہ لگا سکتے ہیں۔
ولارڈ لیبی کو 1960 میں کیمسٹری کانوبل پرائز ملاولارڈ لیبی کو یقین تھا کہ سیوریج میں چیزوں کا ڈھیر ہو گا۔
یہ 1940 کی دہائی کا وسط ہے۔ امریکی کیمسٹ کا ہدف ہے کہ وہ قدرتی طور پر کاربن اور کاربن 14 کی تابکاری والی شکل تلاش کریں۔
انھیں یقین ہے کہ اگر یہ یہاں موجود ہے تو یہ مردہ جانوروں اور پودوں میں اپنے ختم ہونے کا نشان چھوڑے گی۔ اس کی موجودگی سے پتہ چلے گا کہ ان کی موت کب ہوئی تھی۔
لیکن لیبی کو یہ ثابت کرنا تھا کہ کاربن 14 جنگل میں موجود ہوتا تھا۔ دوسرے سائنسدانوں اب تک کاربن 14 کو لیبارٹری میں ٹیسٹ کے بعد ہی تلاش کر پائے ہیں۔
لیبی کا کہنا ہے کہ جاندار چیزیں کاربن 14 کو اپنے فضلے میں جمع کرتی ہیں اور اسی وجہ سے وہ سیوریج میں اسے تلاش کر رہے تھے۔
انھیں اُس وقت تو اندازہ نہیں تھا کہ ریڈیو ایکٹو کاربن یا ریڈیو کاربن کا موجودہدور میں کتنا وسیع استعمال ہو سکتا ہے۔
20ویں صدی کے وسط میں ریڈیو کاربن کے ذریعے لاتعداد قدیم نوادارت کی عمر کا تعین کیا گیا اور اس کی مدد سے لاپتہ افراد کے کیسز کو حل کرنے سمیت ہاتھی کے دانت کی غیر قانونی فروخت کرنے والوں کو جیل میں ڈالا گیا۔
یہاں تک اس نے سائنسدانوں کو زمین کی ماحولیاتی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے قابل بھی بنایا۔
ریڈیو کاربن ڈیٹینگ (کسی چیز کی عمر کے تعین کا کیمیائی طریقہ) نے دنیا کو کھول کر رکھ دیا۔
پودوں اور حیوانات کا بتدریج خاتمہ
لیکن پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ کاربن 14 کیسے وجود میں آیا۔
لیبی کا خیال تھا کہ کائناتی شعاعیں زمین پر موجود نائٹروجن کے ایٹم سے ٹکرانے کے بعد اس کی ساخت کو تبدیل کرتی ہیں اور اس کے جواب میں کاربن 14 تیزی سے آکسیجن کے ملاپ سے ریڈیو ایکٹو کاربن ڈائی آکسائیڈ بناتا ہے۔
اس کے زمین پر واپس آنے پر پودے تابکار کاربن ڈائی آکسائیڈ کا کچھ حصہ اپنے میں جذب کر لیتے ہیں اور ان پودوں کو خوراک کے طور پر استعمال کرنے سے کچھ حصہ جانوروں اور انسانوں میں بھی منتقل ہو جاتا ہے۔
جب تک کوئی پودہ یا جاندار زندہ رہتا ہے یہ کاربن 14 کو اپنے اندر ذخیرہ کرتا رہتا ہے لیکن اس کے مرنے کے بعد یہ عمل رک جاتا ہے۔
کیونکہ ریڈیو کاربن ایک خاص شرح کے ساتھ ہی بتدریج ختم ہوتا ہے۔ اس لیے کسی بھی نامیاتی مواد میں اس کی پیمائش سے اُس مواد کی عمر کا پتہ لگایا جا سکتا ہے
یہ ایک ایسی چیز ہے جو ایک گھڑی کی مانند ہے اور کسی چیز کے مرنے کے بعد ٹک ٹک کرنے لگتی ہے۔
مختلف چیزوں میں ریڈیو کاربن کی موجودگی سے پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کتنی پرانی ہیںایک بار جب لیبی نے تصدیق کی کہ بالٹیمور کے گٹروں کی میتھین گیس میں کاربن -14 موجود ہے، تو انھوں نے مختلف چیزوں میں ریڈیو کاربن کا پتہ لگایا، جس سے وہ یہ ثابت کر سکیں کہ وہ کتنی پرانی ہیں۔
لیبی نے کہا کہ ’یہاں مسئلہ یہ ہے کہ آپ کسی کو نہیں بتائیں گے کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ یہ پاگل پن ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آپ کسی کو یہ نہیں بتا سکتے کہ کائناتی شعاعیں انسانی تاریخ لکھ سکتی ہیں۔ آپ انھیں یہ نہیں بتا سکتے۔ اس لیے ہم نے اسے خفیہ رکھا۔‘
کئی دیرینہ مسائل حل ہو گئے
لیکن جب انھوں نے اپنا کام ثابت کر دکھایا تو دنیا کو بتا دیا اور 1960 میں لیبی نے کیمسٹری میں نوبل انعام جیتا۔
اُن کی یہ تکنیک 50 ہزار سال پرانے نامیاتی مواد پر بھی موثر انداز میں کام کرتی ہے لیکن اس سے زیادہ پرانے مواد میں کاربن 14 کی مقدار بہت کم رہ جاتی ہے اور کاربن 14 کا بتدریج زوال ہی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کو ممکن بناتا ہے۔
تاریخ کو سمجھنے کے لیے ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کی مرکزی حیثیت ہے۔
ریچل ووڈ، دنیا کی سب سے ممتاز ریڈیو کاربن ڈیٹنگ لیب آکسفورڈ ریڈیو کاربن ایکسلریٹر یونٹ سے وابستہ ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’چیزوں کو ترتیب دینے، مختلف خطوں کے درمیان موازنہ کرنے اور تبدیلی کی رفتار کو سمجھنے کے لیے یہ واقعی بہت اہم ہے۔‘

ریڈیو کاربن ڈیٹنگ نے کچھ اہم اور دیرینہ مسائل کو حل کیا۔
1823 میں ویلز میں ماہر ارضیات ولیم بیکلینڈ کے دریافت کردہ انسانی ڈھانچے کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ 2,000 سال سے زیادہ پرانا نہیں اور ایک صدی سے زیادہ عرصے تک کوئی بھی اس مفروضے کو غلط ثابت نہیں کر سکا۔
ریڈیو کاربن ڈیٹنگ نے یہ ثابت کیا کہ یہ حقیقتًا 33,000 اور 34,000 سال پرانا ہے اور یہ برطانیہ میں سب سے قدیم دفن شدہ انسانی باقیات ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کی بدولت حالیہ دور کے بھی انسانی باقیات کے راز افشا ہوئے ہیں۔
سنہ 1975 میں نیویارک کی رہائشی تیرہ سال لڑکی لیورا این او مالے لاپتہ ہو گئی تھیں۔
کیلیفورنیا کے دریا کے کنارے پائی جانے والی باقیات کے بارے میں ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے یہ پتہ چلا کہ وہ 1964 اور 1967 کے درمیان پیدا ہونے والے کسی فرد کی باقیات ہیں جو غالباً 1977 اور 1984 کے درمیان مر گیا تھا۔
بظاہر یہ ٹائم لائن او مالے پر پوری اترتی ہے اور پھر ڈی این اے کے تجزیہ سے تصدیق ہو گئی کہ یہ باقیات لاپتہ ہونے والی لڑکی کی ہی ہیں۔
ہاتھی دانت کی غیر قانونی سمگلنگ کی روک تھام
واشنگٹن یونیورسٹی سے وابستہ سام واسر نے جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کو روکنے کی کوششوں کے طور پر ہاتھی دانت کے نمونوں سے ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کے نتائج کا مطالعہ کیا۔
سمگلروں کے دعوؤں کے برعکس اعداد و شمار ظاہر کر سکتے ہیں کہ آیا ہاتھی 1989میں ہاتھی دانت کی فروخت پر پابندی سے پہلے یا بعد میں مرے تھے۔
سام واسر کہتے ہیں کہ ’یہ غیر معمولی طور پر مفید ہے اور میں کسی دوسری تکنیک کو نہیں جانتا جو اتنی کارگر ہو۔‘
اس کیس میں ڈی این اے کے ذریعے ہاتھی دانت کی ٹریفکنگ کی جغرافیائی حدود کا پتہ لگایا گیا۔ ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کے ذریعے یہ پتہ لگایا گیا کہ ہاتھیوں کا شکار کب کیا گیا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بعد میں کہا کہ یہ دونوں اہم شہادتیں تھیں ہیں جس سے ملازم کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا۔
کاربن ڈیٹنگ ٹیکنالوجی سے ہاتھی دانت کے لیے غیر قانونی شکار کا پتہ لگایا جا سکتا ہےریڈیو کاربن ڈیٹنگ نے سائنس دانوں کو زمین کی آب و ہوا میں زہریلی گیسوں کے اثرات کو سمجھنے میں بھی معاونت کی۔
ریڈیو کاربن ڈیٹنگ ٹیکنالوجی کی بدولت گلیشیئرز اور قدیم ماحولیاتی نظام کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد ملی۔
اس تحقیق نے موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی)کو معلومات دیں۔ جس کے بعد 2007 میں ماحولیات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر اسے سابق امریکی صدر ال گور کے ساتھ نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔