پی آئی اے کا طیارہ اغوا کرنے کی کوشش کرنے والے ہائی جیکر 37 سال بعد رہا: عبدالمنان ’موزے میں پستول‘ لے جانے میں کیسے کامیاب ہوئے؟

12 مارچ 1988 کو پی آئی اے کی پرواز پی کے 320 کو اغوا کرنے کی کوشش کرنے والے مسافر عبدالمنان غیبزئی کو 37 برس بعد جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ مگر عبدالمنان کون ہیں اور اُنھوں نے مسافر طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش کیوں کی؟
پی آئی اے
Getty Images
اس پرواز پر 143 مسافر اور عملے کے 13 ارکان سوار تھے (علامتی تصویر)

12 مارچ 1988 کو ایک معمول کا دن تھا اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی کراچی سے کوئٹہ جانے والی مسافر پرواز ’پی کے 320‘ اُڑان بھرنے کو تیار تھی۔

اس پرواز پر 143 مسافر اور عملے کے 13 ارکان سوار تھے۔ مسافروں میں 28 سالہ عبدالمنان غیبزئی بھی موجود تھے جن کی نیت محض سفر کرنے کی نہیں تھی بلکہ وہ اس پرواز کو ہائی جیک کر کے کابل (افغانستان) لے جانا چاہتے تھے۔

امریکی خفیہ ادارے ’سی آئی اے‘ کی ایک رپورٹ، جسے مئی 2012 میں ڈی کلاسیفائی کیا گیا ہے، میں بتایا گیا کہ کراچی ایئرپورٹ پر نصب ایکسرے سکریننگ مشین عین اُس وقت خراب ہو گئی جب اُس پرواز پر سوار ہونے والے مسافروں کی سکریننگ کی جا رہی تھی، چنانچہ عبدالمنان اپنی جراب (موزے) میں پستول چھپا کر طیارے کی بزنس کلاس میں سوار ہونے میں کامیاب رہے۔

مارچ 1988 میں اس واقعے سے متعلق ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پاکستان کے سرکاری خبررساں ادارے ’اے پی پی‘ کے حوالے سے لکھا گیا کہ پرواز کا ابتدائی دورانیہ پُرسکون رہا مگر جب طیارہ کوئٹہ ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے محض سات منٹکی دوری پر تھا تو عبدالمنان نے کاک پٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

مگر پرواز پر موجود ایک گارڈ کی بروقت مداخلت کے باعث وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے، اس موقع پر مسافروں، گارڈ اور ہائی جیکر عبدالمنان کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی اور عبدالمنان کی جانب سے کیے گئے تین فائر سکیورٹی گارڈ کو لگے جس سے وہ شدید زخمی ہوئے۔

پی آئی اے کے طیارے کی ہائی جیکنگ کی کوشش ناکام رہی اور عبدالمنان عیبزئی کو اس جرم کی پاداش میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ تاہم بعد ازاں اعلی عدالتوں سے اپیل پر اس سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

اس واقعے کے لگ بھگ 37 سال بعد رواں ہفتے (15 اگست 2025) عبدالمنان غیبزئی کو بلوچستان کے شہر خضدار میں واقع سینٹرل جیل سے رہا کر دیا ہے۔ خضدار سینٹرل جیل کے سپرنٹینڈنٹ محمد یاسیننے عبدالمنان کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔

مگر عبدالمنان کون ہیں اور اُنھوں نے مسافر طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش کیوں کی اور یہ کیسے ناکام ہوئی؟ بی بی سی نے ان سوالوں کے جواب جاننے کے لیے اس طیارے پر سوار ایک عینی شاہد سمیت حکام سے بات کی ہے اور اس دور میں اس واقعے سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹس کا جائزہ لیا ہے۔

عینی شاہد نے کیا دیکھا: ’جہاز سبی پر پرواز کر رہا تھا، جب ہلچل مچ گئی‘

بلوچستان سے تعلق رکھنے والی سیاسی شخصیت میر نصیر مینگل نہ صرف صوبے کے سابق نگران وزیر اعلیٰ رہے ہیں بلکہ وہ فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں وفاقی وزیر مملکت رہنے کے علاوہ قطر میں پاکستان کے سفیر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔

میر نصیر مینگل جنرل ضیا الحق کے دور میں سنہ 1985 میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات میں خضدار کی نشست سے بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور وزیر کے عہدے پر بھی فائز تھے۔ وہ اس پرواز کی بزنس کلاس میں سوار تھے اور اس واردات کے عینی شاہد بھی ہیں۔

بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جس روز پی آئی اے کے جہاز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی گئی، اس کے اگلے روز وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو کوئٹہ آنا تھا اور اسی لیے اراکین اسمبلی کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ملک کے جس بھی حصے میں ہوں، وہاں سے فی الفور کوئٹہ پہنچیں۔

getty
Getty Images
کراچی ایئرپورٹ پر نصب ایکسرے سکریننگ مشین عین اُس وقت خراب ہو گئی جب اُس پرواز پر سوار ہونے والے مسافروں کی سکریننگ کی جا رہی تھی (علامتی تصویر)

میر نصیر کے مطابق کراچی میں اُس وقت بلوچستان کے جتنے بھی وزرا اور اراکین اسمبلی تھے، وہ 12مارچ کو کوئٹہ پہنچنے کے لیے اُسی پرواز پر سفر کر رہے تھے۔

وہ کہتے ہیں ’چونکہ میں بلوچستان کا وزیر تھا، اس لیے میری نشست کاک پٹ کے قریب تھی۔‘

میر نصیر کا کہنا تھا کہ بزنس کلاس میں ان کے ہمراہ بلوچستان کے ایک اور وزیر سیف اللہ پراچہ اور رُکن بلوچستان اسمبلی میر محمد علی رند بھی سوار تھے۔

سیف اللہ پراچہ اور میر محمد علی رند وفات پا چکے ہیں۔

میر نصیر نے کہا کہ جب اُن کا طیارہ کوئٹہ کے قریب سبی شہر کے اوپر سے پرواز کر رہا تھا، تو جہاز میں اچانک ہلچل مچی اور اسی دوران انھوں نے پستول پکڑے ایک شخص کو کاک پٹ کی جانب جاتے ہوئے دیکھا۔

میر نصیر کے مطابق کاک پٹ کے قریب موجود ایک سکیورٹی اہلکار نے ہائی جیکر پر قابو پانے کی کوشش کی مگرہائی جیکر نے فائرنگ کر دی جس سے خوف مچ گیا اور سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گیا مگر اسی دوران بزنس کلاس میں موجود مسافروں نے ہمت کر کے اس شخص کو دبوچ لیا اور اس کا پسٹل چھین لیا۔

میر نصیر کے مطابق ’جب ہم نے ہمت کی تو اُس وقت جہاز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کرنے والے شخص کا ایک پیر کاک پٹ کے اندر تھا جبکہ دوسرا باہر تھا۔ اگر وہ مکمل طور پر کاک پٹ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتا تو پھر شاید اُس کو قابو کرنا مشکل ہو جاتا۔‘

میر نصیر مینگل نے کہا کہ مسافروں کی جانب سے ہائی جیکر کو مکے بھی مارے گئے جس کی وجہ سے اُن کا چہرہ زخمی ہوا اور بعد میں اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے۔

امریکی خبررساں ایجنسی ’یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل‘ نے اس واقعے سے متعلق 12 مارچ 1988 کو ایک رپورٹ شائع کی۔ اس آرکائیول رپورٹ کے مطابق کاک پٹ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے سے قبل عبدالمنان واش روم گئے تھے اور وہاں سے نکل کر ہی انھوں نے طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش کی۔

اسی رپورٹ میں پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے حوالے سے بتایا گیا کہ طیارے پر ’اے پی پی‘ کے کوئٹہ کے نمائندے بھی سوار تھے اور ’اے پی پی‘ نے رپورٹ کیا کہ ’جیسے ہی ہائی جیکر پر قابو پا لیا گیا تو مسافروں نے ان پر تھپڑوں اور گھونسوں کی بوچھاڑ کر دی جس کے باعث اس کے چہرے سے خون بہنے لگا۔‘

’پائلٹ نے بتایا کہ طیارے کو افغانستان لے جانے کا مطالبہ کیا گیا‘

میر نصیر مینگل کا کہنا تھا کہ جب ہائی جیکر پر قابو پا لیا گیا تو پائلٹ نے اعلان کیا کہ ہائی جیکر نے کاک پٹ کے دروازے پر پہنچنے کے بعد بلند آواز میں جہاز کو کوئٹہ لے جانے کی بجائے افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندہار لے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم اس واقعے سے متعلق سی آئی اے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہائی جیکر پرواز کو کابل لے جانا چاہتا تھا۔

میر نصیر کے مطابق ہائی جیکنگ کی کوشش ناکام ہونے کے چند ہی منٹ بعد پائلٹ نے طیارے کو کوئٹہ ایئرپورٹ پر اُتارا جس پر تمام مسافروں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ کوئٹہ ایئرپورٹ پر جہاز کے اترنے کے بعد عبدالمنان کو وہاں حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

اُن کا کہنا تھا وزیر اعظم کے دورے کے باعث اس جہاز میں وزرا اور اراکین اسمبلی کے علاوہ دیگر حکومتی شخصیات کی ایک بڑی تعداد سفر کر رہی تھی، اور اُن کے بقول اس طیارے کا اغوا کے لیے انتخاب شاید اس لیے کیا گیا کہ بڑی تعداد میں حکومتی شخصیات کی وجہ سے پاکستان پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا جا سکتا تھا۔

سی ائی اے کی رپورٹ کے مطابق ہائی جیکر جیل میں قید اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنا چاہتا تھا اور شاید اسی لیے طیارے کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔

EPA
EPA
سی آئی اے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہائی جیکر پرواز کو کابل لے جانا چاہتا تھا۔

زخمی سکیورٹی اہلکار کو طبی امداد

پاکستان کے انگریزی روزنامہ ’ڈان‘ سے منسلک سینیئر صحافی سلیم شاہد اُن صحافیوں میں شامل تھے جو اس طیارے کی ہائی جیکنگ کی اطلاع ملنے کے بعد کوریج کے لیے کوئٹہ ایئرپورٹ پہنچے تھے۔

37 سال قبل پیش آئے اس واقعے سے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ اُس وقت ڈان گروپ کے کراچی سے شائع ہونے والے دو روزناموں ’سٹار‘ اور ’حریت‘ کے لیے کوئٹہ سے رپورٹنگ کرتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ڈان کے ایڈیٹر اظہر عباس اُس وقت ’سٹار‘ سے منسلک تھے جنھوں نے اس واقعے سے متعلق انھیں فون کرکے اطلاع دی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اطلاع ملتے ہی میں نے اپنا کیمرہ اٹھایا اور کوئٹہ ایئرپورٹ پہنچ گیا۔‘

اُنھوں نے بتایا کہ اُس وقت کوئٹہ ایئرپورٹ کی مرکزی عمارت چھوٹی تھی اور چونکہ سکیورٹی کے حالات آج جیسے خراب نہیں تھے اس لیے ایئرپورٹ کی حدود کے باہر نصب جنگلوں سے بھی طیارے کو ٹیک آف اور لینڈنگ کرتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اُس موقع پر انھوں نے ناصرف طیارے کی تصاویر بنائیں بلکہ طیارے پر سوار مسافروں اور پی آئی اے کے حکام سے بھی بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہائی جیکر کو پکڑنے کی کوشش کے دوران طیارے کے اندر موجود جو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے تھے ان کا نام لیاقت علی بتایا گیا تھا۔‘

’مسافروں اور حکام نے ہمیں بتایا تھا کہ سکیورٹی اہلکار کو کمر میں گولیاں لگی تھیں۔‘

امریکی خبررساں ایجنسی ’یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل‘ نے اس واقعے سے متعلق 12 مارچ 1988 کو شائع کردہ اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ طیارے پر دو ڈاکٹر بھی بطور مسافر سوار تھے جن میں ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر لوئس کوسٹر بھی تھے جنھوں نے زخمی ہونے والے اہلکار علی، جسے کمر میں دو اور ہاتھ پر ایک گولی لگی تھی، کو ابتدائی طبی امداد دی تھی۔

سلیم شاہد کے مطابق ’مسافروں اور حکام نے بتایا کہ عبدالمنان غیبزئی پہلے کاک پٹ کے ساتھ موجود ٹوائلٹ میں گئے۔ وہاں سے نکلنے کے بعد انھوں نے کاک پٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔‘

getty
Getty Images
طیارے پر دو ڈاکٹر بھی بطور مسافر سوار تھے جن میں ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر لوئس کوسٹر بھی تھے جنھوں نے زخمی ہونے والے اہلکار علی، جسے کمر میں دو اور ہاتھ پر ایک گولی لگی تھی، کو ابتدائی طبی امداد دی تھی (علامتی تصویر)

عبدالمنان غیبزئی کون ہیں؟

عبدالمنان غیبزئی کا تعلق بنیادی طور پر بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی ضلع قلعہ عبداللہ سے ہے۔

قلعہ عبداللہ سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی حیات اللہ اچکزئی نے بتایا کہ وہ ایک کاروبار سے وابستہ تھے اور ان کی قلعہ عبداللہ میں دکانیں تھیں تاہم چند سال قبل ان کا بیٹا قلعہ عبداللہ سے منتقل ہوگیا تھا۔

’ٹیررازم ریویو‘ کے عنوان سے 28 مارچ 1988 کو شائع ہونے والی سی آئی اے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ’عبدالمنان مبینہ طور پر اسلحے اور منشیات کی سمگلنگ کرتے تھے اور اطلاعات کے مطابق طیارہ ہائی جیکنگ کے پیچھے اُن کا مقصد جیل میں قید اپنے چند ساتھیوں کی رہائی ہو سکتا تھا۔‘

پاکستانی اور غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پی آئی اے کے طیارے کو ہائی جیک کرنے کی ناکام کوشش کے وقت ان کی عمر 35 سال تھی۔

طیارے کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کا جرم ثابت ہونے پر ان کو سزائے موت ہوئی تھی تاہم بعد میں اعلیٰ عدالتوں نے ان کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا تھا جبکہ ان کو دس لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزا ہوئی تھی۔

مختلف جیلوں میں رکھے جانے کے بعد ان کو سینٹرل جیل خضدار منتقل کیا گیا تھا۔

سینٹرل جیل خضدار کے سپرانٹنڈنٹ محمد یاسین نے بتایا کہ عبدالمنان غیبزئی نے اپنی سزا نہ صرف مکمل کی بلکہ ان کو چند ماہ اضافی جیل میں گزارنا پڑا کیونکہ وہ جرمانے کی رقم ادا نہیں کر پا رہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی رہائی اس وقت ممکن ہوئی جب جرمانے کی رقم ایک غیر سرکاری تنظیم ’سیچرڈے ویلفیئر گروپ‘ نے ادا ک ۔

خیال رہے کہ یہ تنظیم پاکستان بھر میں ان قیدیوں کی رہائی میں مدد دیتی ہے جو کہ صرف جرمانے کی رقم ادا نہ کرنے کی وجہ سے جیل سے رہا نہیں ہو پات ۔

محمد یاسین نے بتایا کہ منان غیبزئی 15سال سینٹرل جیل خضدار میں رہے۔ ’جو بھی قیدی رہا ہوتا ہے، کاغذی کارروائی کے حوالے سے ان کی ملاقات سپرنٹنڈنٹ یا جیل کے دیگر عملے سے ہوتی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ عبدالمنان جب ان کے کمرے آئے تو رہائی کا پروانہ ملنے پر وہ بہت خوش تھے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US