“ہماری سوچ بہت صاف ہے، جہیز سراسر ظلم ہے۔ کوئی باپ بیٹی کے شادی کے دن قرض میں نہ ڈوبے۔ ہمارا رشتہ ایک روپے سے شروع ہوا تھا، اور وہیں ختم ہوتا ہے۔”
اتر پردیش کے مظفر نگر میں ہونے والی ایک شادی اس وقت چرچا بن گئی جب اودھیش رانا نے رسومات کے دوران 31 لاکھ روپے کا رکھا ہوا جہیز سب کے سامنے واپس کر کے پورے ماحول کو حیران کر دیا۔ ایسے ملک میں جہاں جہیز کی وجہ سے لڑکیوں کو ہراسانی، گھریلو ظلم اور خودکشی جیسے واقعات کا سامنا پڑتا ہے، وہاں ایک نوجوان کا یوں کھڑے ہو کر اتنی بڑی رقم ٹھکرا دینا معاشرتی سوچ کو جھنجھوڑ دینے والی بات بن گئی۔ دلہن ادیتی سنگھ کے گھر والے رقم پیش کرنا چاہتے تھے مگر اودھیش نے باوقار انداز میں ہاتھ جوڑ کر انکار کر دیا، اور یہی لمحہ تقریب میں موجود ہر شخص کے لیے ایک خاموش مگر طاقتور پیغام بن گیا۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر بھی بحث چھیڑ دی کہ جب ایک انسان اتنی بڑی مالی پیشکش ٹھکرا سکتا ہے تو سماج باقی بہانوں کا سہارا کیوں لیتا ہے۔
واضح رہے کہ دلہن آدیتی سنگھ کم عمری میں ہی یتیم ہوگئی تھیں جس کے بعد ان کی اور ان کے بھائی کی پرورش بوڑھے دادا نے کی تھی۔
بلاشبہ اودیش نے ان کروڑوں لوگوں کے لئے مثال قائم کی ہے جو جہیز کی لالچ میں شادی جیسے مقدس رشتے کو آلودہ کرتے ہیں۔