دنیا بھر میں 21 ہزار سے زائد پاکستانی شہری مختلف ممالک کی جیلوں میں قید ہیں، جن میں 8,569 سزا یافتہ اور 13,078 زیرِ سماعت ہیں۔ یہ تفصیلات وزارت داخلہ کی تیار کردہ رپورٹ میں سامنے آئیں جو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں پیش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ پاکستانی سعودی عرب کی جیلوں میں قید ہیں، جہاں جدہ میں 3,335 سزا یافتہ اور 2,110 زیرِ سماعت قیدی موجود ہیں، جبکہ ریاض میں 2,635 سزا یافتہ اور 2,665 زیرِ سماعت قیدی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی مختلف جیلوں میں 5,297 پاکستانی قیدی قید ہیں، جبکہ بھارت میں 738 اور چین میں 652 پاکستانی قیدی موجود ہیں۔
دیگر ممالک میں پاکستانی قیدیوں کی تعداد کچھ یوں ہے افغانستان 91، ترکی 190، برطانیہ 23، امریکہ 141، ایران 101 سزا یافتہ اور 68 زیرِ سماعت، عراق 51 سزا یافتہ اور 30 زیرِ سماعت، اٹلی 220 سزا یافتہ اور 133 زیرِ سماعت، جاپان 7 سزا یافتہ اور 16 زیرِ سماعت، آسٹریلیا 27، کویت 35 سزا یافتہ اور 5 زیرِ سماعت، قطر 599، عمان 578، ملائشیا 310 سزا یافتہ اور 134 زیرِ سماعت، یونان 460 سزا یافتہ اور 56 زیرِ سماعت۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستانی شہریوں پر درج الزامات میں فراڈ، منشیات اسمگلنگ، جنسی ہراسگی، قتل، ہتھیار رکھنے، نابالغ سے زیادتی، غیر قانونی بارڈر کراسنگ، ڈکیتی، انسانی اسمگلنگ اور جعل سازی جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔
وزارت داخلہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سفارتی مشنز قیدیوں کی گرفتاری کی اطلاع ملتے ہی قونصلر رسائی کے لیے رابطہ کرتے ہیں، جیل حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں، قیدیوں کی خیریت معلوم کرتے ہیں اور ضروری قانونی دستاویزات فراہم کرتے ہیں۔ ساتھ ہی بدسلوکی یا غلط فہمی کی صورت میں فوری مداخلت کرتے ہیں اور سزا پوری ہونے پر قیدیوں کی واپسی کے لیے ٹریول دستاویزات جاری کرتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض ممالک میں قیدی اپنی مرضی سے سفارتی مشنز سے رابطہ نہیں کرتے کیونکہ مقامی قوانین کے تحت رضامندی ضروری ہوتی ہے