خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، مقدمات میں تشویشناک اضافہ

image

خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کے باعث صوبے بھر کے تھانوں میں ایف آئی آرز کے اندراج اور عدالتوں میں مقدمہ بازی کا رجحان تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ ان مقدمات میں خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی پامالی، شہریوں کے ساتھ ناانصافیاں، استحصال، ملازمین کے حقوق کی خلاف ورزیاں، پولیس اور دیگر اداروں کی زیادتیاں، غیرقانونی حراست اور لاپتہ افراد کے کیسز شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ہر سال خیبرپختونخوا میں مختلف نوعیت کے ڈیڑھ سے ایک لاکھ 70 ہزار تک مقدمات درج ہوتے ہیں۔ پشاور ہائیکورٹ میں گزشتہ سال 32 ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے جبکہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں ساڑھے چار لاکھ سے زائد مقدمات دائر کیے گئے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبے میں سماجی، سیاسی اور قانونی مسائل کے باعث انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ قبائلی اضلاع سمیت مختلف علاقوں میں دہشتگردی، قتل و غارت، خواتین اور بچوں پر تشدد، جائیداد اور مالی تنازعات جیسے جرائم پر ایف آئی آرز کا اندراج کیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ مقدمات صوبائی دارالحکومت پشاور میں درج ہوئے، جہاں آبادی 50 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق گزشتہ سال امن و امان کی خراب صورتحال نے بھی انسانی حقوق پر منفی اثرات ڈالے۔

پشاور ہائیکورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں 32 ہزار 224 نئے کیسز دائر ہوئے جبکہ ضلعی عدالتوں میں 4 لاکھ 86 ہزار مقدمات جمع کرائے گئے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کی غفلت اور قوانین پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے۔

انسانی حقوق کے حوالے سے سیف اللہ محب کاکاخیل ایڈوکیٹ نے بتایا کہ صوبے کی فیملی کورٹس میں بھی مقدمات میں اضافہ ہوا، جہاں گزشتہ سال 23 ہزار 660 نئے کیسز داخل جبکہ 24 ہزار سے زائد نمٹائے گئے۔

قانونی ماہرین کے مطابق بڑھتی آبادی، آگاہی کی کمی، غربت، بے روزگاری اور حکومتی اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کے تحفظ میں ناکامی کے باعث خیبرپختونخوا میں ایف آئی آرز اور مقدمہ بازی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US