لاہور ہائیکورٹ نے یوٹیوبر رجب بٹ کے وکیل بیرسٹر علی اشفاق کے قانون لائسنس کی معطلی کے خلاف دائر درخواست پر پنجاب بار کونسل اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
پیر کے روز جسٹس اویس خالد نے کیس کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل انور حسین کو ہدایت کی کہ وہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے ہدایات حاصل کریں جبکہ پنجاب بار کونسل کے ایک سینئر نمائندے کو بھی آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا گیا۔
عدالت نے لائسنس معطلی سے متعلق مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ یہ کارروائی کس اختیار کے تحت عمل میں لائی گئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون کے مطابق کسی وکیل کا لائسنس معطل کرنے کا اختیار ڈسپلنری کمیٹی کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے پاس۔ وکیل کے مطابق ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین نے بیرسٹر علی اشفاق کو سنے بغیر ہی لائسنس معطل کیا جو قانون کے خلاف ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس اویس خالد نے پنجاب بار کونسل کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا کسی بھی وکیل کے خلاف بغیر سنے کارروائی کی جا سکتی ہے؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ آئین کا آرٹیکل 10-اے ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا حق دیتا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی اقدام کیا ہے۔ عدالت نے تمام فریقین کو سننے کے بعد قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے سماعت منگل تک ملتوی کر دی۔