اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس، چین اور کولمبیا نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے ۔ سلامتی کونسل کے دیگر ارکان نے امریکا پر براہ راست تنقید کرنے کے بجائے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا۔
چینی مندوب نے کہا ہے کہ ان کا ملک علاقائی ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ یکجہتی اور تعاون کو مضبوط بنانے، انصاف کو برقرار رکھنے اور لاطینی امریکا اور کیریبین میں امن و استحکام کے مشترکہ تحفظ کے لیے تیار ہے۔ اقوامِ متحدہ میں روس کے سفیر نے کہا کہ وہی ممالک جو دیگر مواقع پر اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں پر چیختے چلاتے نظر آتے ہیں آج اصولی موقف اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں جو کھلی منافقت کا اظہار ہے۔
اقوامِ متحدہ میں وینزویلا کے سفیر نے صدر نکولس مادورو کو اغوا کر نے کی امریکی کارروائی کو غیر قانونی مسلح حملہ قرار دیا جس کی قانونی توجیہ موجود نہیں۔کولمبیا جس نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کی درخواست کی تھی نے امریکی کارروائی کو وینزویلا کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ روس، چین اور وینزویلا نے امریکاسے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو رہا کرے۔
اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق رکن ممالک کو بین الاقوامی تعلقات میں کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ انہیں وینزویلا میں ممکنہ طور پر عدم استحکام میں شدت، اس کے خطے پر ممکنہ اثرات اور ریاستوں کے باہمی تعلقات کے حوالے سے قائم ہونے والی مثال پر گہری تشویش ہے۔
امریکا نے کہا ہے کہ وہ وینزویلا پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اے پی کے مطابق اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ امریکی فوج کی معاونت سے ایک محدود اور قانون نافذ کرنے کی کارروائی کے ذریعے دو مفرور ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن میں نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ شامل ہیں۔امریکی سفیر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ وینزویلا یا اس کے عوام کے خلاف کوئی جنگ نہیں اور ہم کسی ملک پر قبضہ نہیں کر رہے ۔
واضح رہے کہ امریکا کو سلامتی کونسل کے ذریعے کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی پر جوابدہ نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ اسے ویٹو کا اختیار حاصل ہے جس کے ذریعے وہ کسی بھی کارروائی کو روک سکتا ہے۔امریکا کی خارجہ پالیسی کے سب سے بڑے ناقدین چین اور روس نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا کو لاقانونیت کے دورکی طرف لوٹنے کو مسترد کرنے کے لیے متحد ہو جائے۔روس کے سفیر ویسلی نیبنزیا نے کہا کہ ہم امر یکا کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ خود کو ایک سپریم جج کے طور پرپیش کرے جو تنہا کسی بھی ملک پر حملہ کرنے اور مجرموں کو سزائیں دینے کا حق رکھتا ہے۔
وینزویلا کے سفیر سیموئیل مونکاڈا نے اقوام متحدہ سے مبہم تبصروں اور مذمت سے آگے بڑھ کر عملی اقدام کا مطالبہ کیا۔انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ امریکی حکومت سیصدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو رہا کرنے کا مطالبہ کرے۔وینزویلا کے سفیر نے کہا کہ اگر کسی سربراہ مملکت کا اغوا، ایک خودمختار ملک پر بمباری اور مزید مسلح کارروائی کے کھلے خطرے کو برداشت کیا جائے گا یا تو دنیا کو تباہ کن پیغام جائے گا کہ بین الاقوامی تعلقات میں قانون کی بجائے طاقت ہی فیصلہ کن عنصر ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ دوسرے ممالک کے پاس اب اس کے سوا کوئی رواستہ نہیں ہے کہ اس طرز عمل کو روکیں ایسی منطق کو قبول کرنے کا مطلب ایک انتہائی غیر مستحکم دنیا کا دروازہ کھولنا ہے ۔
کولمبیا کے سفیر لیونور زالاباتا نے امریکی اقدام کو ماضی میں خطے میں ہونے والی بدترین مداخلت قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا دفاع تشدد اور جبر کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے معاشی مفادات کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے ۔ فرانسیسی سفیر نے امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان جن میں امریکا بھی شامل ہے کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی کسی بھی خلاف ورزی سے بین الاقوامی نظام کی بنیاد ختم ہو جائے گی۔ فرانس کے نائب سفیر جے دھرمادھیکاری نے کہا کہ جو فوجی آپریشن صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کا باعث بنا ہے وہ امن تنازعات کے حل کے اصول اور طاقت کے استعمال نہ کرنے کے اصول کے خلاف ہے ۔
چائنا ڈیلی کے مطابق اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے چارج ڈی افیئر سن لی نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ چین کو امر یکا کے یکطرفہ، غیر قانونی اور غنڈہ گردی کی کارروائیوں پر شدید صدمہ ہو اہے اور وہ اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔
وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں چینی مندوب نے کہا کہ 3 جنوری کو امریکا نے وینزویلا کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی حملے شروع کی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو زبردستی اغوا کر کے ملک سے باہر لے جایا گیا، اس کے بعد امریکی صدر نے مزید دعوی کیا کہ وہ وینزویلا کے معاملات کو چلائیں گے یہاں تک کہ اس سے بھی بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کا دوسرا دور شروع کرنے سے انکار نہیں کیا ۔
بین الاقوامی برادری نے بار بار وینزویلا کے خلاف امریکی پابندیوں، ناکہ بندی اور طاقت کی دھمکیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تاہم امریکا نے بین الاقوامی برادری کے شدید تحفظات کو نظر انداز کیا وینزویلا کی خودمختاری، سلامتی اور جائز حقوق اور مفادات کو بے دریغ پامال کیا اور خودمختار مساوات کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے جن مین اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی تنازعات میں بین الاقوامی طاقتوں کے استعمال خاص طور سے قابل ذکر ہیں یہ اصول اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی تشکیل کرتے ہیں اور بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کا سنگ بنیاد ہیں۔
امریکا نے اپنی طاقت کو کثیرالجہتی پر اور فوجی اقدامات کو سفارتی کوششوں سے بالاتر رکھا ہے جس سے لاطینی امریکا اور کیریبین اور یہاں تک کہ بین الاقوامی سطح پر امن و سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ چینی مندوب نے کہا کہ ہم امریکا پر زور دیتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی برادری کی آواز کو سنے، بین الاقوامی قانون ، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری کرے، دوسرے ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی بند کرے وینزویلا کی حکومت کا تختہ الٹنے کے اقدامات بند کرے اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل کی راہ پر واپس آئے ۔
انہوں نے کہا کہ چین امریکا سے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی ذاتی حفاظت کو یقینی بنانے اور انہیں فوری رہا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے تاریخ کا سبق یہ ہے کہ فوجی ذرائع مسائل کا حل نہیں ہیں اور طاقت کا اندھا دھند استعمال صرف بڑے بحرانوں کو جنم دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے عراق کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے کے لیے سلامتی کونسل کو نظرانداز کیا ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا اور اقتصادی پابندیاں عائد کیں فوجی حملے کیے جس کے نتیجے میں مسلسل تنازعات، عدم استحکام اور عام لوگوں کے لیے بے پناہ مصائب پیدا ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ وینزویلا آزاد خود مختار ریاست ہے جس کو اپنی خودمختاری اور قومی وقار کے دفاع کا ہر حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ لاطینی امریکا اور کیریبین ممالک عالمی امن اور استحکام کو برقرار رکھنے اور عالمی ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے میں اہم قوتیں ہیں، انہیں اپنی ترقی کے راستے اور شراکت داروں کو آزادانہ طور پر منتخب کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ملک دنیا کی پولیس کے طور پر کام نہیں کر سکتا اور نہ ہی کوئی ملک بین الاقوامی جج ہونے کا خودساختہ کردار ادا کر سکتا ہے چین وینزویلا کی حکومت اور عوام کی خودمختاری، سلامتی ، جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے حمایت کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چین لاطینی امریکا اور کیریبین کو امن کے علاقے کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے علاقائی ممالک کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے چین امر یکا سے اپنی روش بدلنے، اپنی غنڈہ گردی اور زبردستی کے طرز عمل کو ختم کرنے اور علاقائی ممالک کے ساتھ باہمی احترام، مساوات اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی بنیاد پر تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین علاقائی ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ یکجہتی اور تعاون کو مضبوط بنانے، انصاف اور انصاف کو برقرار رکھنے اور لاطینی امریکا اور کیریبین میں امن و استحکام کے مشترکہ تحفظ کے لیے تیار ہے۔