گرین لینڈ کے حصول کے لیے فوجی آپشن سمیت مختلف امکانات زیر غور، وائٹ ہاؤس

image

وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے جن میں امریکی فوج کے استعمال کا امکان بھی شامل ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق آرکٹک خطے میں روس اور چین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے باعث صدر ٹرمپ ایک بار پھر گرین لینڈ کو امریکی اسٹریٹجک مرکز بنانے کے خواہاں ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کو امریکی قومی سلامتی کی ایک اہم ترجیح سمجھتے ہیں جو خطے میں مخالف طاقتوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے ضروری ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے رائٹرز کے سوالات کے جواب میں کہا کہ صدر اور ان کی ٹیم اس خارجہ پالیسی ہدف کے حصول کے لیے تمام ممکنہ آپشنز پر غور کر رہی ہے اور بطور سپریم کمانڈر امریکی فوج کے استعمال کا اختیار بھی موجود ہے۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق گرین لینڈ کے حصول سے متعلق مشاورت اوول آفس میں جاری ہے جہاں مشیران مختلف حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو رہنماؤں کی جانب سے گرین لینڈ کی خودمختاری کے حق میں سخت بیانات کے باوجود صدر ٹرمپ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔

واضح رہے کہ گرین لینڈ کی قیادت متعدد بار اعلان کر چکی ہے کہ وہ امریکا کا حصہ بننے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔

اقوام متحدہ کا رکن ممالک کی علاقائی سالمیت کے احترام پر زور

دوسری جانب اقوام متحدہ نے بھی رکن ممالک کی علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے بریفنگ کے دوران کہا کہ عالمی ادارہ رکن ممالک کی علاقائی خودمختاری کے اصول پر قائم ہے اور اس مؤقف کا دفاع آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو دفاعی مقاصد کے لیے گرین لینڈ کی اشد ضرورت ہے اور وہ اس مقصد کے لیے فوجی یا معاشی دباؤ کے امکانات کو بھی مسترد نہیں کرتے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US