یمن میں اماراتی حمایت یافتہ رہنما پر ’غداری‘ کا الزام، سعودی اتحاد کے فضائی حملے: ’وہ ریاض آنے کی بجائے فرار ہو گئے‘

یمن میں سعودی حمایت یافتہ صدارتی کونسل نے ایک علیحدگی پسند گروہ کے رہنما پر غداری کا الزام لگایا ہے کیونکہ وہ مذاکرات کے لیے ریاض نہیں آئے تھے۔ صدارتی کونسل کے چھ دیگر ارکان نے متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے سربراہ عیدروس الزبیدی پر الزام لگایا کہ وہ ’جمہوریہ کی خودمختاری کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘
یمن، سعودی
EPA

یمن میں سعودی حمایت یافتہ صدارتی کونسل نے ایک علیحدگی پسند گروہ کے رہنما پر غداری کا الزام لگایا ہے کیونکہ وہ مذاکرات کے لیے ریاض نہیں آئے تھے۔

صدارتی کونسل کے چھ دیگر ارکان نے متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے سربراہ عیدروس الزبیدی پر الزام لگایا کہ وہ ’جمہوریہ کی خودمختاری کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘

سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے کہا کہ الزبیدی ’فرار ہو گئے تھے‘۔ اس کے مطابق وہ نہ صرف یمنی شہر عدن سے ایس ٹی سی حکام کے ساتھ پرواز میں شامل نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے ایک ’بڑی فوجی قوت‘ یمن کے صوبے الضالع کی طرف منتقل کی۔

اتحاد نے مزید کہا کہ اس کے جواب میں یمن میں فضائی حملے کیے گئے۔

دوسری طرف ایس ٹی سی نے کہا کہ مبینہ طور پر چار افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے حملوں کا ’کوئی جواز نہیں تھا‘ اور یہ کہ الزبیدی اب بھی عدن میں موجود ہیں۔

اس نے یہ بھی تشویش ظاہر کی کہ ریاض میں گروپ کے وفد سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران جنوبی یمن کشیدگی سے دوچار ہے۔ یہاں ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک کے خلاف برسوں سے جاری خانہ جنگی میں شامل دھڑے اب ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں چونکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خلیج مزید گہری ہو رہی ہے۔

ایس ٹی سی سے منسلک فورسز نے حالیہ برسوں میں جنوبی یمن کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا ہے جسے وہ دوبارہ ایک آزاد ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور اس کی نگرانی کرنے والی صدارتی قیادت کونسل کے وفادار فوجیوں کو باہر نکال دیا ہے۔

دسمبر میں ایس ٹی سی کی فورسز نے مشرقی صوبوں حضرموت اور المہرہ پر قبضہ کرنے کے لیے حملے شروع کیے۔ انھوں نے کہا تھا کہ یہ اقدامات جنوب میں ’استحکام بحال کرنے‘ اور حوثیوں، القاعدہ اور داعش سے لڑنے کے لیے ضروری ہیں۔

تاہم سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے خبردار کیا کہ مملکت کی سرحدوں کے قریب یہ پیش قدمی سعودی قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ یمن کی سلامتی اور استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔

اس نے متحدہ عرب امارات پر الزام لگایا تھا کہ وہ مشرقی یمن میں اپنے علیحدگی پسند اتحادیوں پر ’دباؤ ڈال رہا ہے‘ اور صدارتی کونسل کے اس مطالبے کی حمایت کی کہ تمام اماراتی افواج ملک چھوڑ دیں۔

2015 میں عرب ریاستوں بشمول متحدہ عرب امارات نے اس وقت سعودی قیادت میں ایک اتحاد قائم کیا تھا جب حوثیوں نے شمال مغربی یمن پر قبضہ کر لیا تھا۔ گذشتہ ہفتے اتحاد نے ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کی مبینہ کھیپ کو نشانہ بنایا جو امارات سے ایس ٹی سی کے لیے آئی تھی۔

امارات نے سعودی الزامات پر ’گہرے افسوس‘ کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ کوئی ہتھیار نہیں تھے لیکن اس نے اپنی باقی افواج کو ملک سے نکالنے پر اتفاق کیا۔

اس کے بعد سے اتحاد کے فضائی حملوں کی مدد سے حکومت کے وفادار فوجیوں نے زیادہ تر حضرموت اور المہرہ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

تصویر
Getty Images
اماراتی وزارت دفاع نے یمن میں اپنی افواج کے مشنز کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے

کشیدگی کو مزید کم کرنے کے لیے الزبیدی اور ایس ٹی سی کا ایک وفد منگل کی رات عدن سے ریاض حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے روانہ ہونا تھا۔

تاہم اتحاد نے کہا کہ طیارہ تین گھنٹے تاخیر سے روانہ ہوا لیکن الزبیدی کے بغیر، جو ’ایک نامعلوم مقام پر فرار ہو گئے۔‘

اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایک بیان میں کہا کہ ’قانونی حکومت اور اتحاد کو انٹیلیجنس اطلاعات ملی ہیں کہ الزبیدی نے ایک بڑی فوجی قوت بشمول بکتر بند گاڑیاں، جنگی گاڑیاں، بھاری اور ہلکے ہتھیار اور گولہ بارود جبل حدید اور الصلبان کیمپوں (عدن) سے الضالع کی طرف منتقل کی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اتحاد کی افواج نے قانونی حکومت کی افواج اور (سعودی حمایت یافتہ) نیشنل شیلڈ فورسز کے ساتھ ہم آہنگی میں محدود پیشگی حملے کیے تاکہ ان قوتوں کو منتشر کیا جا سکے اور الزبیدی کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے کہ وہ تنازع کو بڑھا کر الضالع تک لے جائے۔‘

دو ہسپتال ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ بدھ کی صبح الضالع پر 15 سے زیادہ حملے ہوئے اور کم از کم چار شہری ہلاک ہوئے۔

مالکی نے الزبیدی پر یہ بھی الزام لگایا کہ انھوں نے عدن میں ’بے چینی پیدا کرنے کے مقصد سے‘ درجنوں عناصر کو ہتھیار تقسیم کیے۔ اس نے کہا کہ اتحاد نے ایس ٹی سی کے نائب رہنما عبدالرحمن المہرامی، جو صدارتی کونسل کے رکن بھی ہیں، سے وہاں سکیورٹی قائم کرنے کو کہا ہے۔

بعد میں صدارتی کونسل نے ایک فرمان جاری کیا کہ الزبیدی کو رکنیت سے محروم کر دیا گیا ہے اور اس معاملے کو اٹارنی جنرل کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔

ان پر عائد الزامات میں ’غداری‘، ’فوجی، سیاسی اور اقتصادی حیثیت کو نقصان پہنچانا‘، ’ایک مسلح گروہ تشکیل دینا‘ اور ’مسلح افواج کے افسران اور فوجیوں کے قتل میں ملوث ہونا‘ شامل ہیں۔

اس نے الزام لگایا کہ ’یہ ثابت ہو چکا ہے کہ (الزبیدی) نے جنوب کے جائز مقصد کو غلط استعمال کیا اور اسے جنوبی صوبوں میں شہریوں کے خلاف سنگین جرائم کرنے کے لیے استعمال کیا۔‘

ایس ٹی سی کی خارجہ امور اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے اپنے سیکریٹری جنرل شیخ عبدالرحمن الصبیحی کی قیادت میں ایک وفد ریاض بھیجا ہے کیونکہ وہ ’مختلف سیاسی اقدامات اور مکالمے کی کوششوں میں مثبت اور ذمہ دارانہ طور پر شامل ہونے کے لیے پرعزم ہے۔‘

اس نے مزید کہا کہ ’اسی وقت صدر عیدروس قاسم الزبیدی دارالحکومت عدن سے اپنے عوام کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہتے ہیں، فوجی، سکیورٹی اور شہری اداروں کے کام کی براہِ راست نگرانی کرتے ہیں۔‘

ایس ٹی سی نے کہا کہ وہ اتحاد کے الضالع میں فضائی حملوں سے ’حیران‘ ہوا۔ انھیں ’بدقسمت اضافہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعلان شدہ مکالمے کے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اس نے یہ بھی تشویش ظاہر کی کہ ریاض میں الصبیحی کے وفد کی موجودگی اور حالات کے بارے میں کوئی سرکاری معلومات موصول نہیں ہوئی ہیں جس کے بارے میں اس نے کہا کہ ’یہ سنگین سوالات اٹھاتا ہے جنھیں فوری وضاحت کی ضرورت ہے۔‘

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ایک دوسرے پر الزامات

گذشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے یمن میں پیش آئے حالیہ واقعات کے تناظر میں یمن میں موجود اپنی افواج کے مشنز کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تصویر
AFP via Getty Images
مکلا، جنوبی یمن۔ اس تصویر میں تباہ شدہ فوجی گاڑیاں دکھائی دے رہی ہیں، جو مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات کی جانب سے یمن کے علیحدگی پسند گروہ ’ایس ٹی سی‘ کے لیے بھیجی گئی تھیں۔ یہ گاڑیاں سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی فضائی کارروائی کے بعد بندرگاہ مکلا میں تباہ ہوئی ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کی جانب سے جاری بیان اور اس میں شامل ’بنیادی غلطیوں‘ پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جو یمن کی موجودہ صورتحال میں امارات کے کردار سے متعلق ہیں۔

یو اے ای کی وزارت خارجہ کے مطابق ’امارات نے واضح طور پر کسی بھی ایسی کوشش کو مسترد کر دیا ہے جس کا مقصد ملک (یو اے ای) کو یمنی فریقوں کے درمیان کشیدگی میں ملوث کرنا ہو، اور اُن الزامات کی سختی سے مذمت کی ہے کہ امارات نے کسی یمنی فریق پر دباؤ ڈالا یا ہدایات جاری کیں تاکہ وہ ایسی فوجی کارروائیاں کرے جو سعودی عرب کی سلامتی کو نقصان پہنچائیں یا اس کی سرحدوں کو نشانہ بنائیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’امارات سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی، مملکت کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے احترام کا داعی ہے۔ اور ایسے تمام اقدامات کی مخالفت کرتا ہے جو سعودی عرب یا خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے برادرانہ اور تاریخی تعلقات خطے کے استحکام کی بنیاد ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یو اے ای حضرموت اور المہرہ صوبوں میں صورتحال کو قابو میں رکھنے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور یہ سب سعودی عرب کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں کیا گیا۔

یو اے ای نے واضح کیا ہے کہ یمنی بندرگاہ پر بھیجے گئے سامان میں کوئی اسلحہ شامل نہیں تھا اور جو گاڑیاں اتاری گئیں وہ کسی یمنی فریق کے لیے نہیں بلکہ یمن میں موجود اماراتی افواج کے استعمال کے لیے بھیجی گئی تھیں۔

وزارت نے زور دیا کہ اس حوالے سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور یہ کہ اُن گاڑیوں کے بارے میں امارات اور سعودی عرب کے درمیان اعلیٰ سطح پر ہم آہنگی موجود تھی اور ساتھ ہی یہ اتفاق بھی ہوا تھا کہ گاڑیاں بندرگاہ سے باہر نہیں جائیں گی۔ ’مگر اس کے باوجود امارات بندرگاہ مکلا میں اِن گاڑیوں کو نشانہ بنانے پر حیران ہوا ہے۔‘

اماراتی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یمن میں امارات کی موجودگی جائز یمنی حکومت کی درخواست پر اور سعودی قیادت میں قائم عرب اتحاد کے فریم ورک کے تحت ہے جس کا مقصد قانونی حکومت کی بحالی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے۔ ’امارات نے اتحاد کی کارروائیوں کے آغاز سے نمایاں قربانیاں دی ہیں۔‘

وزارتِ خارجہ نے زور دیا کہ حالیہ پیش رفت سے نمٹنے کا عمل ذمہ داری کے ساتھ اور ایسے طریقے سے ہونا چاہیے جو کشیدگی کو بڑھنے سے روکے اور تصدیق شدہ حقائق اور متعلقہ فریقوں کے درمیان موجودہ ہم آہنگی پر مبنی ہو تاکہ سلامتی اور استحکام برقرار رہے، مشترکہ مفادات محفوظ رہیں اور سیاسی عمل کی حمایت ہوسکے۔

سعودی بیان میں یو اے ای پر تنقید

اس سے قبل سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے اقدامات ’اتحاد کے اصولوں کے خلاف ہیں‘ اور اِن سے یمن میں قیام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔

بیان کے مطابق ’سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات کے اِن اقدامات پر مایوسی ہوئی، جن میں سدرن ٹرانزیشنل کونسل کی افواج پر دباؤ ڈال کر مملکت کی جنوبی سرحدوں پر حضرموت اور المہرا کے صوبوں میں فوجی کارروائیاں کروائی گئیں۔ یہ اقدامات سعودی عرب کی قومی سلامتی اور یمن و خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ تصور کیے جاتے ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’متحدہ عرب امارات کے اٹھائے گئے اقدامات انتہائی خطرناک ہیں اور کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ایسے خطرات کو ختم کیا جا سکے۔‘

سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب نے یمن کی خودمختاری، سلامتی اور اتحاد کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا اور ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ بحران کا واحد حل ’یمنی قیادت کے مابین سیاسی مکالمہ ہے جس میں تمام فریق شامل ہوں، بشمول ایس ٹی سی۔‘

سعودی وزارت خارجہ نے امید ظاہر کی تھی کہ متحدہ عرب امارات اس درخواست کو قبول کرے گا جس میں یمن کی حکومت نے اگلے 24 گھنٹوں میںاماراتی فوجیوں کے انخلا اور کسی فریق کی عسکری و مالی مدد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تصویر
Getty Images
یمن کی بندرگاہ مکلا میں یو اے ای سے بھیجے گئے دو بحری جہازوں سے اُترنے والے سامان کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں سعودی اتحاد کے مطابق کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے

یمن میں ’محدود فضائی کارروائی‘ کے دوران کیا ہوا تھا؟

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ سعودی سربراہی میں قائم اتحاد نے یمن میں ایک فضائی حملے میں ایسے ہتھیاروں اور کامبیٹ گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے جو کہ متحدہ عرب امارات سے آنے والے بحری جہازوں سے یمن کی بندرگاہ پر اُتاری جا رہی تھیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں یمن کے جنوب میں موجود علیحدگی پسندوں کی کارروائی کے باعث متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فوجی دستے آمنے سامنے آئے تھے۔

سعودی سربراہی میں قائم اتحاد کے ترجمان کے مطابق متحدہ عرب امارات میں واقع فجیرہ بندرگاہ سے آنے والے دو جہاز سنیچر اور اتوار کو مکلا بندرگاہ میں بغیر اجازت داخل ہوئے، انھوں نے اپنے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیے اور بڑی تعداد میں ہتھیار اورجنگی گاڑیاں اُتاریں، ’تاکہ ایس ٹی سی کی حمایت کی جا سکے۔‘

سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ مکلا بندرگاہ پر حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

تاحال متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔

سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کا کہنا ہے کہ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کی جانب سے حضرموت اور المہرا میں شہریوں کے تحفظ کی درخواست پر سعودی اتحاد نے منگل کی صبح ایک محدود فضائی کارروائی کی جس میں بندرگاہ پر اُتارے گئے ہتھیاروں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

خیال رہے کہ علیحدگی پسند گروہ ایس ٹی سی ابتدا میں یمن میں حوثیوں کے خلاف قائم کردہ سعودی اتحاد کا حصہ تھا۔ تاہم بعد میں ایس ٹی سی نے جنوب میں خودمختاری حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ایس ٹی سی یمن کے جنوب کے بڑے حصے پر قابض ہے جن میں سٹریٹیجک طور پر اہم حضرموت صوبہ بھی شامل ہے۔ حضرموت سعودی عرب کی سرحد پر واقع ہے اور سعودیہ کے اس کے ساتھ ثقافتی اور تاریخی تعلقات ہیں۔

حوثی یمن کے شمالی حصے، بشمول صنعا، پر قابض ہیں جہاں سے انھوں نے سعودی حمایت یافتہ حکومت کو سنہ 2014 میں نکال دیا تھا اور شمال کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔

سعودی اتحاد نے مزید کہا کہ ’ہم کسی بھی ملک کی جانب سے کسی یمنی گروہ کو فوجی مدد فراہم کرنے سے روکنا جاری رکھیں گے۔‘

خیال رہے کہ یمن 2014 سے خانہ جنگی سے متاثرہ ہے۔ یمن کے مقامی ذرائع ابلاغ پر دسمبر کے اوائل سے یہ تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ جنوبی یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ گروہوں کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

Yamen, Housi
Getty Images

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یمن کے معاملے پر رقابت

یمن کے معاملے پر سعودی کمان میں ہونے والی جنگ میں ابتداً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تھے لیکن اب دونوں کا موقف ایک دوسرے سے مختلف ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے مختلف گروہوں کی حمایت تعلقات میں کشیدگی کا باعث بن رہی ہے۔

علیحدگی پسند گروہ ایس ٹی سی ابتدا میں یمن میں حوثیوں کے خلاف قائم کردہ سعودی اتحاد کا حصہ تھا۔ تاہم بعد میں ایس ٹی سی نے جنوب میں خودمختاری حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ایس ٹی سی یمن کے جنوب کے بڑے حصے پر قابض ہے جس میںسٹریٹیجک طور پر اہم حضرموت صوبہ بھی شامل ہے۔ حضرموت سعودی عرب کی سرحد پر واقع ہے اور اس کے ساتھ ثقافتی اور تاریخی تعلقات ہیں۔

حوثی ملک کے شمالی حصے پر قابض ہیں بشمول دارالحکومت صنعا جہاں سے انھوں نے سعودی حمایت یافتہ حکومت کو 2014 میں نکال دیا تھا اور شمال کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔

یمن کی صورتحال کے حوالے سے ریاض اور ابوظہبی کے موقف متضاد ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے سنہ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں یمن کے حوثی باغیوں (جنھیں ایران کی حمایت حاصل ہے) کے خلاف لڑی گئی جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

لیکن دوسری جانب یمن کے جنوبی ساحل پر قدم جمانے کی خواہش اور بحیرہ احمر تک رسائی اور بندرگارہ کے تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے، متحدہ عرب امارات نے ایس ٹی سی کی افواج کی حمایت کی۔

ماضی میں ایس ٹی سی نے سرکاری افواج سے براہ راست جھڑپیں کی ہیں اور یمن کے جنوبی علاقے پر قبضہ بھی کر لیا تھا۔

مگر یہ وہ حمایت تھی جس نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات کا بیج بویا کیوںکہ سعودی عرب یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور فوج کی حمایت کرتا ہے۔

گذشتہ برسوں میں متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی عسکری موجودگی کو بڑھایا ہے، جس میں سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے ساتھ افواج کی تربیت، انٹیلیجنس تعاون کو فروغ دینے اور خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے سکیورٹی معاہدہ وغیرہ شامل ہے۔

سنہ 2021 میں ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات آبنائے باب المندب میں جزیرے مایون (پریم) پر ایک فضائی اڈہ بنا رہا ہے۔ اور ابوظہبی کی جانب سے اس سٹریٹیجک جزیرے میں فوجی اڈہ قائم کرنے کی کوششیں بھی ریاض کے لیے تشویش کا باعث بنیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US