چین کا اے آئی شعبے کا مالیاتی حجم 10 کھرب یوآن سے بڑھانے کا دو سالہ ہدف

image

چین نے ایک نئے عملی منصوبے کے تحت اپنے بنیادی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے کے مالیاتی حجم کو دو سال کے اندر 10 کھرب یوآن (142.5 ارب امریکی ڈالر)سے زیادہ کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

وام کے مطابق اس منصوبے کے تحت حکام اے آئی صنعت کے مختلف شعبوں کو ہدف بناتے ہوئے نو بڑے اقدامات متعارف کرائیں گے جن میں تکنیکی جدت پر خصوصی زور دیا جائے گا۔

منصوبے میں مربوط تحقیقی کوششوں کے ذریعے تکنیکی پیش رفت کو ترجیح دی گئی ہے معیاری ڈیٹا کی فراہمی میں اضافہ اور مختلف شعبوں میں اطلاق کو وسعت دینا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ اعلی صلاحیتوں کو راغب کرنے، طویل مدتی سرمایہ کو متحرک کرنے اور اوپن سورس ایکو سسٹمز کی حمایت کے لیے اقدامات بھی شامل ہیں۔

ڈائریکٹر بیجنگ میونسپل کمیشن آف ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم یانگ شیولنگ نے کہا کہ دیگر اہداف میں ایک لاکھ سے زائد چپس کی گنجائش کے ساتھ مقامی طور پر تیار کردہ اے آئی کمپیوٹنگ کلسٹر کی تعمیر، 10 سے زائد نئی فہرست شدہ اے آئی سے متعلق کمپنیوں کا اضافہ اور اس شعبے میں 20 سے زائد یونیکورن کمپنیوں کی پرورش شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین کے اے آئی شعبے میں مضبوط ترقی دیکھی گئی ہے اور چین اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشنز ٹیکنالوجی کے مطابق ستمبر 2025 تک اس طرح کی کمپنیوں کی تعداد 5300 سے تجاوز کر گئی ہے جو عالمی مجموعی تعداد کا 15 فیصد بنتی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US