امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے ایک اہم ماحولیاتی معاہدے سمیت درجنوں بین الاقوامی تنظیموں، کنونشنز اور معاہدوں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس کے تحت امریکا 66 بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں سے دستبردار ہو جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ان اداروں میں مسلسل شمولیت کو امریکی قومی مفادات کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ ان 66 اداروں میں اقوام متحدہ سے منسلک 31 ادارے جبکہ دیگر 35 بین الاقوامی تنظیمیں شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جن اداروں اور معاہدوں سے امریکا علیحدگی اختیار کر رہا ہے وہ غیر مؤثر، فضول اور ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے تھے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ان اداروں میں ناقص انتظام، فضول خرچی اور کمزور کارکردگی پائی جاتی ہے جبکہ بعض عناصر نے انہیں امریکی ترجیحات کے خلاف اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ تنظیمیں امریکا کی خودمختاری، آزادی اور خوشحالی کے لیے خطرہ بن رہی تھیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی عوام کے ٹیکس کا پیسہ ایسے اداروں پر خرچ کرنا قابل قبول نہیں جن سے امریکا کو کوئی فائدہ حاصل نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر غیر ملکی مفادات پر خرچ کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ یہ اقدام امریکا فرسٹ پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ نے ایک صدارتی میمورنڈم پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت امریکا ان 66 بین الاقوامی تنظیموں سے علیحدگی اختیار کرے گا جو اب امریکی مفادات کے مطابق نہیں رہیں۔
ایگزیکٹو آرڈر کے تحت صدر نے تمام وفاقی محکموں اور ایجنسیوں کو ہدایت کی ہے کہ دستبرداری کے فیصلے پر فوری عملدرآمد کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ اقوام متحدہ سے منسلک اداروں سے علیحدگی کا مطلب امریکا کی شرکت اور مالی معاونت کا خاتمہ ہوگا۔
میمورنڈم میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ وزیر خارجہ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے جائزے اور کابینہ کے ارکان سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔