ڈرگ فری پشاور مہم میں بڑے پیمانے پر مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف

image

خیبر پختونخوا میں ایک اور مالی اسکینڈل منظر عام پر آیا ہے، ڈرگ فری پشاور مہم کے فیز تھری میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں جبکہ بحالی سینٹرز میں ناکافی سہولیات اور مریضوں پر تشدد کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

محکمہ سماجی بہبود خیبر پختونخوا کی اسپیشل آڈٹ رپورٹ کے مطابق مہم کے لیے قائم کنٹرول روم اور ڈی سی آفس کو بھی کیپرا رولز کے خلاف 20 لاکھ روپے سے زائد ادائیگیاں کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مہم کے دوران انکم ٹیکس، کیپرا ٹیکس، سیلز ٹیکس اور اسٹامپ ڈیوٹی کی عدم ادائیگی سے ایک کروڑ 70 لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے جبکہ ناقص کاکردگی پر "دا حق آواز" پر عائد 8 لاکھ 86 ہزار روپے جرمانہ بھی وصول نہیں کیا گیا۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق مہم میں کسی بھی بحالی مرکز میں مریضوں کی داخلہ یا حاضری رجسٹرڈ موجود نہیں ہیں، جبکہ بحالی مراکز میں نشے کے عادی مریضوں کے لیے کوئی نفسیاتی ڈاکٹر تعینات نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بحالی مرکز میں نشے کے عادی افراد کو ٹارچر کیا گیا اور خوراک بھی میسر نہیں، بحالی مرکز میں ایچ ای وی پازیٹیو مریضوں کو بھی دیگر افراد کے ساتھ رہائش دی گئی۔

صوبائی حکومت نے ضلعی انتظامیہ پشاور کے زیر نگرانی چلنے والی ڈرگ فری مہم کے لیے کروڑوں روپے جاری کیے ہیں، ڈرگ فری پشاور مہم فیز تھری کے تحت دو ہزار نشے کے عادی افراد بحالی مرکز منتقل کیے گئے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US