استقبال کے بعد ’رکاوٹوں‘ کا الزام: سہیل آفریدی کا شکوہ اور سندھ حکومت کی ’معذرت‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سہیل آفریدی کے استقبال اور پھر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے الزامات پر ردِعمل دیتے ہوئے سندھ حکومت کی ترجمان سعید جاوید نے کہا ہے کہ ہلڑ بازی اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
تصویر
Getty Images
سہیل آفریدی کا الزام ہے کہ سندھ میں بھی پنجاب کی طرح اُن کے دورے کے دوران رکاوٹیں ڈالی گئیں

ٹوپی، اجرک اور ایئر پورٹ پر والہانہ استقبال سے شروع ہونے والا وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا کا دورہ سندھبھی تلخی اور الزام تراشیوں میں تبدیل ہو گیا۔

پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا ہے کہ اتوار کو مزارِ قائد پر جلسے کو روکنے کے لیے شیلنگ اور لاٹھی جارج کیا گیا، جبکہ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے ’شرائط کی خلاف ورزی کی اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔‘

سہیل آفریدی کے چار روزہدورہ سندھ کا آغاز جمعے کو اُس وقت گرمجوشی سے ہوا تھا، جب سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے کراچی ایئر پورٹ پر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا استقبال کیا تھا۔ سعید غنی نے اُنھیں روایتی سندھی ٹوپی اور اجرک پہنائی تھی۔

سعید غنی کے اس اقدام کو مختلف حلقوں کی جانب سے سراہا گیا تھا، کیونکہ اس سے قبل سہیل آفریدی کے دورہپنجاب کے دوران پی ٹی آئی نے رکاوٹیں ڈالنے اور مہمان نوازی کی روایات توڑنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

لیکن اتوار کی صبح اُس وقت صورتحال تبدیل ہو گئی جب سہیل آفریدی نے ایکس پر لکھا کہ ’حیدر آباد سے کراچی واپسی کے دوران اُن کے قافلے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں‘ جس کی وجہ سے وہ ایک سنسان راستے سے صبح سویرے کراچی پہنچے۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’جو روایات ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کے ساتھ دوسرے صوبوں میں بنائی جا رہی ہیں، یہ مستقبل قریب میں نقصاندہ ثابت ہوں گی۔‘

بعدازاں پاکستان تحریکِ انصاف نے الزام عائد کیا کہ اتوار کی شام کارکنوں کو مزارِ قائد پر تحریکِ انصاف کے جلسے میں آنے سے روکا گیا اور شہر میں کنٹینر لگا کر راستے بند کیے گئے۔

سہیل آفریدی نے کارکنوں کو مزارِ قائد آنے سے روکنے کے لیے پولیس پر شیلنگ کا بھی الزام عائد کیا۔

تصویر
Getty Images

دوسری جانب سندھ کے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ اگر سہیل آفریدی کو اُن کے بقول کوئی شکایت ہے تو اس پر وہ ’معذرت‘ کرتے ہیں۔

جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ صدر آصف زرداری کی ہدایت پر ہی ایئر پورٹ پر سہیل آفریدی کا استقبال کیا گیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی سے کہا گیا تھا کہ وہ سڑک کے بجائے باغ جناح گراؤنڈ میں جلسہ کر لیں، لیکن اُن کا اصرار تھا کہ وہ ہر صورت سڑک پر ہی جلسہ کریں گے۔‘

حیدر آباد سے واپسی پر قافلے کا راستہ تبدیل کرنے کے الزام پر ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ پولیس کی نفری وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ تھی اور اُنھیں محفوظ راستے سے ہی کراچی پہنچایا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’سندھ حکومت کی جانب سے استقبال کے باوجود سہیل آفریدی نے اپنی تقاریر میں پیپلز پارٹی کی قیادت اور سندھ حکومت کو نشانہ بنایا، جس سے بدمزگی پیدا ہوئی۔‘

اتوار کی شب مزارِ قائد کے قریب کیا ہوا؟

پاکستان تحریکِ انصاف کے مطابق وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا دورہ کراچی عمران خان کی ہدایت پر شروع کی جانے والی ’سٹریٹ موومنٹ‘ کا حصہ ہے۔

سہیل آفریدی اپنے دورے کے دوران حیدر آباد بھی گئے جبکہ کراچی میں بھی اُنھوں نے مختلف تقاریب سے خطاب کیا۔

لیکن اتوار کو پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے مزارِ قائد پر جلسے کا اعلان کیا گیا تھا اور اس دوران پولیس کی بھاری نفری باغ جناح کے اطراف تعینات کی گئی تھی۔

اس دوران پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے ’ایکس‘ پر کچھ ویڈیوز پوسٹ کیں، جن میں پولیس اہلکاروں کو شیلنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

حلیم عادل شیخ نے الزام عائد کیا کہ نہتے کارکنوں پر پولیس کی جانب سے شیلنگ کی گئی۔

اس دوران باغ جناح گراؤنڈ کے اطراف پولیس اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوتی رہیں اور پولیس نے کچھ کارکنوں کو حراست میں بھی لیا۔

پاکستان تحریک انصاف نے ابتداً باغ جناح گراونڈ میں جلسے کا اعلان کیا تھا اور سندھ حکومت نے اس کے لیے این او سی بھی جاری کیا تھا۔

لیکن تحریک انصاف نے الزام لگایا گیا کہ این او سی جاری کرنے میں تاخیر کی گئی، اس لیے مزار قائد کے باہر اب ریلی نکالی جائے گی۔

حلیم عادل شیخ نے الزام لگایا کہ ’سندھ حکومت نے جان بوجھ کر این او سی تاخیر سے دیا، کارکنوں کو باغ جناح سے نکالا گیا، گیٹ بند کیے گئے اور رات گئے پولیس تشدد اور گرفتاریاں کی گئیں۔‘

پاکستان تحریکِ انصاف کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کو سندھ میں سیاسی سرگرمیاں کرنے کی اجازت دی گئی۔ لیکن اُنھوں نے کچھ شرائط پرعمل نہیں کیا۔‘

ایک بیان میں شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ’جس طرح سے سہیل آفریدی کا کراچی میں استقبال کیا گیا، اس کی سب نے تعریف کی۔‘

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کو کراچی کے باغ جناح میں جلسہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ لیکن جس طرح سڑکوں پر ریلیاں نکالی گئی، اس کی وجہ سے ٹریفک کے نظام میں خلل پڑا۔‘

’ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سہیل آفریدی کے استقبال اور پھر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے الزامات پر ردِعمل دیتے ہوئے سندھ حکومت کی ترجمان سعید جاوید نے کہا ہے کہ ’ہلڑ بازی اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ مزار قائد کے باہر پی ٹی آئی کی ریلی ایک ’فلاپ شو‘ تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف کا باغ جناح گراونڈ میں جلسہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ لیکن وہاں لوگ نہیں آئے اور انھوں نے سڑک پر ہی لوگوں سے خطاب کیا۔‘

لاٹھی چارج اور شیلنگ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ ’جب پولیس پر حملہ کیا جائے گا، میڈیا پرسنز سے بدتمیزی کی جائے گی۔ ہلڑ بازئ اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی ہوگی تو اس بات کی اجازت تو نہیں دی جا سکتی ہے اس وجہ سے پولیس نے اپنے ردِعمل کا اظہار کیا۔‘

تجزیہ کار اور صحافی جبار ناصر سندھ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے جلسے کو فلاپ شو قرار دینے کے دعوے پر کہتے ہیں کہ ’وہاں روشنی کا انتظام نہیں تھا۔ اس لیے کیمرے دُور تک مجمعہ نہیں دکھا سکے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’اس ریلی کے ڈرون شاٹس بھی نہیں تھے اور یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف بڑی ریلی کا دعوی کر رہی ہے۔‘

صحافی دودو چانڈیو صبح گیارہ بجے سے رات گیارہ بجے تک جناح گراونڈ میں موجود تھے۔

اُن کے بقول جلسے میں 30 ہزار کے قریب لوگ موجود تھے اور ’پی ٹی آئی کا کارکن جو گھر بیٹھا تھا، وہ بھی اتوار کو باہر نکلا۔‘

ان کے مطابق ’جلسہ گاہ کو چاروں اطراف سے پولیس نے صبح سے گھیر رکھا تھا کارکنوں پر لاٹھی چارج بھی ہوا واٹر کینن بھی چلی لیکن کارکن مکمل طور پر منشتر نہیں ہوئے۔‘

اُن کے بقول اُنھوں نے رکاوٹیں دور کیں اور آگے بھی بڑھتے رہے ساڑھے تین بجے کے قریب پولیس نے رویہ تبدیل کیا۔

’کوئی اسٹیج موجود نہیں تھا جس کے گرد لوگ جمع ہوتے، اس لیے ادھر اُدھر بیٹھے رہے جب سردی بڑھ گئی تو وہ آگ جلا کر بیٹھ گئے۔ ساڑھے نو بجے کے قریب سہیل آفریدی جلسہ گاہ پہنچے ہیں اس وقت تک لوگ موجود تھے۔‘

سہیل آفریدی
EPA

پنجاب کے دورے کے دوران سہیل آفریدی کے شکوے

دسمبر 2025 کے اواخر میں سہیل آفریدی ’عمران خان کی ہدایت پر‘ لاہور کا دورہ کر رہے تھے جس کے بارے میں انھوں نے بعد ازاں ایک احتجاجی مراسلہ بھی پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کو لکھا تھا۔

انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی آمد کے موقع پر ’پنجاب حکومت کی نگرانی میں‘ نہ صرف پی ٹی آئی کے کارکنان کی گرفتاریاں کی گئیں بلکہ لاہور کے شہریوں کو ’مارکیٹیں اور عوامی مقامات کی بندش کر کے تکلیف دی گئی۔ موٹروے ریسٹ ایریا تک بند رکھا گیا۔‘

جب ہم نے اس بارے میں پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری سے پوچھا تو ان کا دعویٰ تھا کہ پنجاب میں سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ٹول پلازہ اور سروس سٹیشنز پر بدتمیزی کی تھی۔ ’یہ پنجاب اسمبلی میں اپنے گارڈز کے ساتھ گھسے اور لوگوں کو مارا پیٹا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ سب حرکتیں انھوں نے کراچی میں نہیں کیں تو اسی لیے وہاں انھیں بہتر صورتحال ملی۔ احترام ہمیشہ کمایا جاتا ہے، آپ کو اچھا رویہ دکھانا پڑتا ہے۔‘

عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ ’جو حرکتیں انھوں نے پنجاب میں کیں، وہ اس سے سیکھ چکے ہیں۔ اگر پنجاب میں بھی وہ بدتمیزی نہ کرتے تو یہاں بھی ان کے لیے مسائل نہ ہوتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے پنجاب میں اپنے لیے مسائل ’خود پیدا کیے تھے۔‘

پنجاب حکومت کی ترجمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے یہ بے بنیاد الزام لگایا گیا کہ سہیل آفریدی کی آمد کے موقع پر پنجاب اسمبلی میں ٹک ٹاکرز کو پیسے دے کر بُلایا گیا تھا تاکہ ان کی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ تلخ کلامی ہو۔

عظمی بخاری نے کہا کہ وہ ان الزامات پر پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

’ان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کون سے لوگوں کو پیسے دے کر میں نے بھیجا تھا یا جو صحافی نہیں تھے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US