ایران نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے دوران کم از کم 225 افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جس کے بعد حکومت نے ملک بھر میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کردیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مختلف شہروں میں بڑے اجتماعات دیکھنے میں آئے، جہاں سرکاری میڈیا نے تابوت اٹھائے ہجوم اور ریاست کے حق میں نعرے لگاتے مناظر دکھائے۔
صدر مسعود پزشکیان نے بدامنی کی شدید مذمت کرتے ہوئے مظاہروں کو ایران کے خلاف سازش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک سے دہشت گردوں کو ملک میں داخل کیا گیا اور امریکا و اسرائیل پر ہنگامہ آرائی اور تخریب کاری کی حمایت کا الزام عائد کیا۔
ادھر ایرانی حکومت نے لندن میں ایرانی سفارت خانے کی عمارت سے قومی پرچم اتارے جانے کے واقعے پر سخت احتجاج کیا ہے۔ اس حوالے سے برطانوی سفیر کو طلب کر کے اسے ناقابلِ قبول اور سفارتی آداب کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
حکام کے مطابق تہران سمیت بڑے شہروں میں حالات بتدریج معمول پر آ رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں دکانیں اور کاروبار دوبارہ کھل گئے ہیں جبکہ ٹریفک بھی بحال ہو چکی ہے، تاہم امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی فورسز تعینات ہیں۔
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جبکہ ملک میں استحکام بحال کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ جو ہوا وہی ٹرمپ کے ساتھ ہوگا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ غرور میں ڈوبا ایک شخص پوری دنیا کے فیصلے کر رہا ہے۔ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اقتدار کے عروج پر طاقتور ترین حکمرانوں کے ساتھ کیا ہوا۔
ایران کے سپریم لیڈر کا کہنا تھاکہ فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ جو ہوا وہی ٹرمپ کے ساتھ ہوگا۔
یاد رہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل کو ایران میں فسادات کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا، اسرائیل لوگوں کو ہدایات دے رہے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، جاؤ تخریب کاری کرو، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ایران پر حملہ کیا۔
ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ کسی غیر ملکی کو قوم میں انتشار کے بیج بونے کی اجازت نہیں دیں گے۔