نوجوانوں میں گردے کی پتھری کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی بڑی وجوہات جدید طرز زندگی، پانی کی کمی اور غیر متوازن خوراک ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق زیادہ نمکین، مسالے دار اور فاسٹ فوڈ کے استعمال کے ساتھ ساتھ پروٹین سے بھرپور غذا جسم میں نمکیات بڑھا دیتی ہے جو کم پانی پینے کی صورت میں پتھری کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
طبی ماہرین نے بتایا کہ پہلے یہ مرض زیادہ تر درمیانی عمر یا بزرگ افراد میں دیکھی جاتی تھی لیکن اب کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ اسپتالوں کے یورولوجی شعبوں میں نوجوان مریضوں کی تعداد گزشتہ برسوں میں واضح طور پر بڑھ گئی ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق جسم میں پانی کی کمی پیشاب کو گاڑھا بنا دیتی ہے جس کے نتیجے میں کیلشیم، یورک ایسڈ اور دیگر نمکیات کرسٹل کی صورت اختیار کر کے گردے کی پتھری میں بدل جاتے ہیں۔ جینیاتی رجحان، موٹاپا، میٹابولک بیماریاں اور طویل عرصے تک دردکش ادویات کا استعمال بھی اس مرض کے بڑھنے کا سبب بنتا ہے۔
ماہرین صحت مشورہ دیتے ہیں کہ روزانہ کم از کم دو سے ڈھائی لیٹر پانی پینا، نمک اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز، تازہ غذا کا استعمال، باقاعدہ ورزش، وزن پر قابو اور وقتاً فوقتاً طبی جانچ نوجوانوں کو گردے کی پتھری سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
گردے کی پتھری کی علامات میں کمر یا پہلو میں شدید درد، متلی، قے، پیشاب کے دوران جلن، بار بار واش روم جانا اور پیشاب میں خون آنا شامل ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں یہ مرض خاموش رہتا ہے جس سے بروقت تشخیص اور علاج بہت ضروری ہے۔
علاج کا دارومدار پتھری کے سائز اور مقام پر ہوتا ہے۔ چھوٹی پتھریاں زیادہ پانی اور دواؤں سے نکل جاتی ہیں جبکہ بڑی پتھریوں کے لیے لیتھو ٹرپسی، اینڈوسکوپک یا سرجری کے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بغیر تشخیص گھریلو ٹوٹکوں یا غیر مستند نسخوں پر انحصار سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔