کام کے دوران پانچ منٹ کا ڈانس آپ کی تخلیقی صلاحیت کو کیسے بہتر بناتا ہے؟

ورزش کتنی کرنی چاہیے اور کب کرنی چاہیے، اس بارے میں بہت سی ہدایات موجود ہیں اور اکثر لوگ اسے بہت سنجیدہ معاملہ بنا دیتے ہیں۔ لیکن ورزش کے خاص طریقوں پر زیادہ توجہ دینا یا اپنے اندازِ ورزش کی فکر کرنا، ورزش کا مزہ ختم کر سکتا ہے۔ اس سے بھی برا یہ ہے کہ ہم ورزش کو ٹالتے رہتے ہیں۔ پورا دن بہت کم حرکت کرنا ہمارے لیے بہت آسان ہو جاتا ہے۔
From improved concentration to higher creativity, dancing offers a range of brain-boosting benefits.
Getty Images

اگر آپ کو یہ کہا جائے کہ بس چند منٹ کے لیے ڈانس کرنا آپ کی تخلیقی صلاحیت کو بہتر بنا سکتا ہے تو کیا آپ ایسا کرنا چاہیں گے؟

آپ کا جواب ہاں ہو یا نہیں مگر ماہرین کے مطابق ڈانس نہ صرف توجہ اور یکسوئی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ تخلیقی صلاحیتوں کو بھی بہتر بناتا ہے۔

بلکہ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ان فوائد کے حصول کے لیے گھنٹوں تک رقص کرنا بھی ضروری نہیں، بلکہ صرف چند منٹ کی سرگرمی بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

میں اپنے دفتر میں دوپہر ایک بجے اپنے لیپ ٹاپ کے سامنے کھڑے ہو کر ایک گانے پر قدرے منفرد اور عجیب سے لگنے والے انداز میں رقص کرتی تھی۔ بظاہر یہ کام کے دوران وقت ضائع کرنے جیسا لگتا تھا، لیکن درحقیقت میں ایسا اپنی دماغی صحت کو بہتر بنانے اور پر سکون رہنے کے لیے کر رہی تھی۔

ورزش کتنی کرنی چاہیے اور کب کرنی چاہیے، اس بارے میں بہت سی ہدایات موجود ہیں اور اکثر لوگ اسے بہت سنجیدہ معاملہ بنا دیتے ہیں۔ لیکن ورزش کے خاص طریقوں پر زیادہ توجہ دینا یا اپنے اندازِ ورزش کی فکر کرنا، ورزش کا مزہ ختم کر سکتا ہے۔

اس سے بھی برا یہ ہے کہ ہم ورزش کو ٹالتے رہتے ہیں۔ پورا دن بہت کم حرکت کرنا ہمارے لیے بہت آسان ہو جاتا ہے۔

جب میرے ساتھی نے مجھے بتایا کہ ڈانس کرنے کے بہت سے فائدے ہو سکتے ہیں، جیسے کہ موڈ بہتر ہونا اور دماغ کو فائدہ پہنچنا، تو میں نے سوچا کہ خود بھی آزما کر دیکھوں کہ کیا میں باقاعدگی سے ڈانس کرنے سے یہ فائدے حاصل کر سکتی ہوں۔

تحقیقی شواہد بھی اس تجربے کی تائید کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈانس ایک ایسی سرگرمی ہے جو جسمانی، ذہنی اور سماجی فوائد کو یکجا کرتی ہے، جس کی وجہ سے یہ دیگر ورزشوں سے منفرد حیثیت رکھتی ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ صرف پانچ منٹ ڈانس کرنا بھی دماغی صحت، مزاج اور مجموعی ذہنی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

پہلے دن دوپہر کے وقت اکیلے ڈانس کرنا مجھے تھوڑا عجیب سا لگا۔ لیکن جب میں دوبارہ بیٹھی تو میں نے محسوس کیا کہ میرے اندر زیادہ توانائی ہے، جبکہ عام طور پر اس وقت مجھے کچھ سستی محسوس ہوتی ہے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ مجھے یہ تجربہ اتنا خوشگوار لگا کہ میرا دل چاہا کہ میں اسے مزید دیر تک جاری رکھوں۔

میرا یہ تجربہ تحقیق سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ ڈانس جسمانی، ذہنی اور سماجی فائدوں کا ایک منفرد مجموعہ فراہم کرتا ہے، جو اسے ورزش کی دوسری اقسام سے مختلف بناتا ہے اور جیسا کہ میں نے خود محسوس کیا، صرف پانچ منٹ کے لیے ڈانس بھی ہماری صحت، خاص طور پر دماغ کے لیے بہت سے مثبت فائدے رکھتا ہے۔

ڈانس کرنے سے جسمانی صحت بہتر ہوتی ہے

سابق پیشہ ور ڈانسر اور ماہرِ نفسیات پیٹر لووٹ کہتے ہیں کہ ’جب ہماری عمر بڑھتی ہے تو ہم اکثر ڈانس کرنا کم کر دیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان قدرتی طور پر ڈانس کرنے کے لیے بنا ہے۔‘

ڈانس کے فائدہ مند ہونے کی ایک بڑی وجہ حرکت اور تال یعنی ردھم کا ملاپ ہے۔ انسان پیدائش سے پہلے ہی حرکت اور تال کے لیے تیار ہوتا ہے۔ حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ نومولود بچے بھی تال کے انداز کو پہلے ہی پہچان سکتے ہیں۔

جرمنی کے میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کی نیورو سائنس دان اور سابق بیلے ڈانسر جولیا ایف کرسٹینسن کہتی ہیں ’ڈانس کرنا ہماری صحت اور خوشی کے لیے تین اہم چیزوں کو ایک ساتھ جوڑ دیتا ہے، جو دوسری سرگرمیوں میں ایک ساتھ نہیں ملتیں۔‘

Dance
Getty Images

کرسٹینسن کے مطابق ان تین فائدوں میں ’جسمانی ورزش، دوسروں سے تعلق مضبوط کرنا اور موسیقی کے ساتھ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کی خوشی شامل ہے۔‘

ڈانس سے ہماری جسمانی فٹنس بہتر ہو سکتی ہے اور جب ہم دوسروں کے ساتھ ڈانس کرتے ہیں تو میل جول کے اضافی فائدے بھی حاصل ہوتے ہیں۔

جب ہم اپنے جسم کی حرکات کو دوسروں کی حرکات کے ساتھ ملاتے ہیں تو ہمارا جسم ایسے ہارمونز خارج کرتا ہے جو ہمیں خوشی کا احساس دیتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

ذہنی صلاحیتوں کے لیے ڈانس کے فوائد

ڈانس ہماری صحت کے لیے اس لیے بھی فائدہ مند ہے کیونکہ اس میں جسم کے ساتھ ساتھ دماغ کے کئی حصے بھی متحرک ہوتے ہیں۔

اگر کوئی شخص فری سٹائل کی بجائے کسی مخصوص ڈانس کی مشق کرتا ہے تو اسے جسمانی حرکات کا ایک پیچیدہ انداز سیکھنا پڑتا ہے اور موسیقی کے ساتھ ترتیب دی گئی حرکات کو یاد رکھنا ہوتا ہے۔

تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ڈانس کی مشق ہماری سوچنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

ایک تجربے میں، میں نے اکیلے ڈانس کرنے کو آسان بنانے کے لیے انٹرنیٹ پر موجود ایک ڈانس کی ویڈیو کی کاپی کرنے کی کوشش کرنے کا فیصلہ کیا، بجائے اس کے کہ اپنی طرف سے نئی حرکات بنانے کی کوشش کرتی۔

اگرچہ میں اکیلی ڈانس کر رہی تھی، پھر بھی مجھے محسوس ہوا کہ صرف ایسا کرنے سے میرے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔

بعض اوقات آن لائن انسٹرکٹر کی مشکل حرکات کو دہراتے ہوئے مجھ سے غلطیاں بھی ہوئیں لیکن مسلسل مشق کے بعد میں ان حرکات سے مانوس ہو گئی اور اپنی کارکردگی کے بارے میں زیادہ پراعتماد محسوس کرنے لگی۔

پیٹر لووٹ کے مطابق ’ہمیں لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ہر انسان کا جسم ڈانس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘

ماہرین کے مطابق ڈانس صرف فوری طور پر موڈ بہتر نہیں کرتا بلکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ذہنی سکون، دماغی صحت اور مجموعی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ بعض مطالعات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ڈانس بالغ افراد میں یادداشت کی بیماری یعنی ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈانس کے لیے زیادہ وقت درکار نہیں ہوتا، بلکہ چند منٹ کی سرگرمی بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں سکول کے بچوں پر کیے گئے تجربے سے معلوم ہوا کہ صرف پانچ منٹ کی باقاعدہ گروپ ڈانس کی سرگرمی کے بعد بچوں کی توجہ ریاضی کے کام پر بہتر رہی اور انھوں نے اسے کئی دوسری ورزشوں کے مقابلے میں زیادہ پسند کیا۔

Just five minutes of dancing might improve your focus
Getty Images

یونان کی یونیورسٹی آف ایرسٹوٹل کے بایومکینکس لیبارٹری کے اسسٹنٹ پروفیسر واسیلیوس پانوٹساکوپولوس جو اس تحقیق کے شریک مصنف ہیں کہتے ہیں کہ ’مختصر جسمانی سرگرمی کے وقفے توجہ اور کام کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتے ہیں، کیونکہ اگر جسم کو وقفہ نہ ملے تو ’تھکن جمع ہوتی رہتی ہے۔‘

ڈانس ہماری تعمیری صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے

جولیا کہتی ہیں ’پانچ منٹ کے ڈانس کی مشق آپ کی تعمیری صلاحیتوں کو بہتر کر سکتی ہے۔ اس کے اثرات پر ایک بڑی تحقیق اس بات کو ثابت کرنے کے لیے موجود ہے۔‘

’ڈانس سے آپ کے دماغ کے وہ حصے بھی متحرک ہو جاتے ہیں جو آپ کو مسائل حل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔‘

اسی طرح ڈانس آپ کی سوچ کو بڑق رفتاری فراہم کرتا ہے، جس سے کسی چیلنج کے دوران آپ کی نئے آئیڈیاز سوچنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔

جولیا مزید کہتی ہیں کہ ’اس سے ہمیں اپنے سوچ کے طے شدہ پیماںوں کو تبدیل کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔‘

ڈانس کے ایک وقفے کے بعد یہ آرٹیکل لکھتے وقت مجھے اپنی تعمیری صلاحیتیں بھی بہتر ہوتی ہوئی نظر آئیں، حالانکہ میں ایک پیچیدہ روٹین کے تحت زندگی گزارتی ہوں۔

شاید اگلی مرتبہ میں ڈانس کے کچھ نئے سٹیپ کرنے کی کوشش کروں، شاید اس سے میری تعمیری صلاحیتوں میں اور بہتری آ جائے۔

اس کے علاوہ ڈانس کرنے کے دیگر جسمانی فوائد بھی ہیں۔ اس سے ہم مضبوط ہوتے ہیں، ہمارا توازن بہتر ہوتا ہے، ہمارے جسم کو مزید اعتماد ملتا ہے اور اس کے نتیجے میں ہمارے زمین پر گرنے کے خدشات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

ان ہی وجوہات کی بنا پر کچھ طبی ماہرین پارکنسن کی بیماری کے علاج کے لیے ڈانس کو بطور تھراپی تجویز کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر ایک مختصر تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 18 مہینے ڈانس کرنے سے نہ صرف آپ کے جسم کا توازن بہتر ہوتا ہے بلکہ اس سے دماغ کا ’ہپوکیمپس‘ نامی حصہ بھی بہتر ہوتا ہے، جس سے آپ کی یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیتیں بہتر ہوتی ہیں۔

پھر ڈانس میں برائی کیا ہے؟ جیسے جیسے وقت گزرا میں اپنے ڈانس بریک کا انتظار کرنے لگی اور اس سے مجھے اپنی صلاحیتوں میں بہتری آتی ہوئی نظر آئی۔

اسی طرح ورزش کا وقفہ بھی بہت اہم ہے۔ یہ حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک وقت میں 30 منٹ سے زیادہ بیٹھنے کے سبب کینسر اور قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

وہ لوگ جو کام کے درمیان ایسی سرگرمیوں کے لیے وقفہ لیتے ہیں ان کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

اپنی پسند کی موسیقی اور ڈانس کا انتخاب کریں

ڈانس شروع کرنے کے طریقے کے بارے میں جولیا کرسٹینسن کا کہنا ہے کہ سب سے پہلا اہم قدم یہ ہے کہ ایسی موسیقی پر ڈانس کیا جائے جو آپ کو پسند ہو۔ لوگ انٹرنیٹ پر اپنی پسند کا کوئی ڈانس سٹائل تلاش کر کے اسے آسانی سے نقل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

مزید یہ کہ اگر ڈانس کے سماجی فائدے بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کرسٹینسن مشورہ دیتی ہیں کہ لوگ ابتدائی سطح کی ڈانس کلاس یا ورزش کے لیے ڈانس کی کلاس میں شامل ہو سکتے ہیں۔

Dance
Getty Images

ڈانس کے ماہر پیٹر لووٹ کے مطابق ایک عام رکاوٹ یہ ہے کہ بہت سے لوگ ڈانس کرتے ہوئے جھجھک محسوس کرتے ہیں یا انھیں اپنی صلاحیت پر اعتماد نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس رکاوٹ کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ویڈیو کال کے دوران اپنے اوپری جسم اور بازوؤں سے ڈانس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہمیں لوگوں کو یہ یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ ہر انسان کا جسم ڈانس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وہ آج بھی روزانہ رقص کرتے ہیں۔

پانوٹساکوپولوس بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جب ہم باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں، چاہے وہ ڈانس ہو یا کوئی اور سرگرمی، تو ہماری زندگی کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ اس سے خود اعتمادی اور اپنے اوپر قابو رکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ ڈانس کرنے والوں کو مخصوص حرکات یاد رکھنی اور ان پر عمل کرنا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ کو موقع ملے تو اسے ضرور اپنائیں اور اس کا بھرپور فائدہ اٹھائیں۔‘

اپنے تجربے کے بارے میں مصنفہ بتاتی ہیں کہ انٹرنیٹ پر پانچ منٹ کے کے لیے ڈانس کرنے کے بہت سے طریقے مل گئے۔ تاہم ضروری ہے کہ ایسے ڈانس کا انتخاب کیا جائے جو آپ کی صلاحیت کے مطابق ہو۔

تاہم میلیسا ہوگن بوم کو اس بات کا اطمینان تھا کہ انھیں کوئی دیکھ نہیں رہا، لیکن وہ کہتی ہیں کہ شاید اعتماد بڑھنے کے بعد اگلا قدم کسی بڑے گروپ کے ساتھ ڈانس کرنا ہو گا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US