پشاور ہائی کورٹ میں لاپتا شخص کی بازیابی درخواست پر سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی۔
ضلع نوشہرہ کے علاقے اکبر پورہ کے لاپتہ رہائشی کی بازیابی کے حوالے سے سماعت کے دوران ایس ایچ او بہرہ مند شاہ، ایس ایچ او پڑانگ چارسدہ اور ایس ایچ او چمکنی پیش ہوئے۔
درخواست گزار خاتون اور ان کے وکیل عمر خان اتمانزئی ایڈووکیٹ بھی عدالت کے روبرو آئِے، عمر خان اتمانزئی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ شخص شاہ زیب 17 دسمبر 2024 آگرہ چارسدہ سے لاپتا ہے، جس پر چیف جسٹس نے تفتیشی آفیسر تھانہ پڑانگ سے استفسار کیا کہ لاپتا شخص کہاں ہے، تفتیشی افسرنے جواب دیا کہ مجھے علم نہیں ہے۔
تھانہ پڑانگ کے تفتیشی افسر کے جواب پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہاں گیا آسمان کھا گیا یا زمین، یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو ڈھونڈے، ایس ایچ او پڑانگ سے استفسار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ لاپتا شخص کے حوالے سے معلومات کے لیے کتنا ٹائم دوں، جس پر ایس ایچ او پڑانگ نے ایک ماہ کی مہلت مانگ لی۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ 30 دن کا ٹائم دیتا ہوں، لاپتا شخص کے مردہ یا زندہ ہونے کا پتا لگائیں، اس کے بعد عدالت دیکھے گی کیا اور کس کے خلاف کاروائی کرنی ہے، بعدازاں عدالت نے مزید سماعت 24 فروری تک ملتوی کردی، جبکہ اس موقع پر عدالت نے تھانہ چمکنی سے بھی ریکارڈ طلب کرلیا۔
یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ میں لاپتا شخص کی بازیابی درخواست پر سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی۔