گل پلازہ کی آتشزدگی کے دوران شہریوں کی جان و مال بچاتے ہوئے شہید ہونے والے 36 سالہ فائر فائٹر فرقان علی ہفتے کی شب گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ بجھانے کے لیے فرنٹ لائن پر موجود تھے۔ صبح پانچ بجے کے قریب پلازہ کی عقبی دکانوں میں ریسکیو آپریشن کے دوران اچانک ملبہ گرنے سے وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ وہ شہریوں کو بچانے کے مشن پر تھے، مگر یہ ڈیوٹی ان کی زندگی کی آخری ڈیوٹی ثابت ہوئی۔
ایثار اور قربانی کا جذبہ فرقان علی کو وراثت میں ملا تھا۔ ان کے والد شوکت علی بھی محکمہ فائر بریگیڈ میں خدمات انجام دے چکے تھے تاہم فالج کے بعد انتقال کر گئے تھے۔ والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فرقان علی 2018 میں ڈیسیز کوٹے کے تحت فائر بریگیڈ میں بھرتی ہوئے اور اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کی جانیں بچاتے رہے۔
شہید فائر فائٹر کی ڈیڑھ برس قبل شادی ہوئی تھی اور ان کا چار ماہ کا بیٹا ہے۔ ان کی شہادت پر گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ اور میئر کراچی سمیت سیاسی و سماجی شخصیات نے زبردست خراج تحسین پیش کیا اور انہیں سیویلین ہیرو قرار دیا۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہید فرقان علی کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے کی مالی معاونت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ فرقان علی نے بہادری سے ریسکیو آپریشن انجام دے کر قومی خدمت کی نئی مثال قائم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کے ایم سی شہید فائر فائٹر کی بیوہ کو ملازمت فراہم کرے گی ان کے بچے کے تمام تعلیمی اخراجات برداشت کیے جائیں گے جبکہ ریٹائرمنٹ سے متعلق تمام مالی فوائد اور تنخواہیں بھی باقاعدگی سے ادا کی جائیں گی۔
مرتضیٰ وہاب نے مزید اعلان کیا کہ ناظم آباد فائر اسٹیشن کا نام شہید فرقان علی کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق فرقان علی نے پیشہ ورانہ دیانت اور فرض شناسی کی وہ مثال قائم کی ہے جس پر محکمہ فائر بریگیڈ اور پورے شہر کو فخر ہے ۔