گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ کے بعد لاپتہ ہونے والے عمر نبیل کے بھائی محمد راحیل نے دل دہلا دینے والی تفصیلات بیان کیں۔محمد راحیل کے مطابق عمر نبیل اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئے آنے والے بچے اور گھر کے لیے خریداری کے لیے پلازہ گئے تھے۔ آگ کے وقت عمر نبیل نے اپنے ہم زلف سے فون پر بات کی اور بتایا کہ وہ فرسٹ فلور پر پھنسے ہیں عمارت میں شدید دھواں بھر چکا ہے اور کچھ نظر نہیں آ رہا۔ وہ برتنوں کی دکان کے قریب تھے اور آکسیجن ختم ہونے کے قریب تھی۔
محمد راحیل کے مطابق آخری کال رات 11 بج کر 7 منٹ پر کنیکٹ ہوئی تاہم کال وصول نہیں ہو سکی۔ عمر نبیل اور ان کے اہل خانہ کی آخری لوکیشن میز نائن فلور کے سامنے آئی۔
اہل خانہ فوری طور پر گل پلازہ پہنچے، جہاں فائر بریگیڈ اور اسنارکل موجود تھے، لیکن محمد راحیل نے ریسکیو کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فائر بریگیڈ کا عملہ غیر تربیت یافتہ محسوس ہوا اور لوگوں کے بروقت اخراج کے بجائے صرف آگ بجھانے میں مصروف رہا۔
محمد راحیل نے بتایا کہ گل پلازہ کی تمام کھڑکیاں اے سی کی وجہ سے اینٹوں سے بند تھیں، جس کے باعث دھواں باہر نہیں نکل سکا۔ اگر دیواریں اور کھڑکیاں توڑ دی جاتیں تو عمارت میں پھنسے افراد کو بچایا جا سکتا تھا۔
45 سالہ عمر نبیل ٹیکسٹائل فیکٹری میں چیف فنانشل آفیسر تھے ان کی اہلیہ ڈاکٹر عائشہ 35 سال کی اور 9 ماہ کی حاملہ تھیں جبکہ ان کا 14 سالہ بیٹا علی بن عمر بھی ان کے ساتھ تھا۔ یہ خاندان نئے بچے کی تیاری کے لیے خریداری کے لیے گیا تھا تاہم اب تک ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔