ٹرائل کورٹ کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ گیا لیکن وہاں بھی اس سزا کو برقرار رکھا گیا لیکن اب تقریباً 15 برس بعد سپریم کورٹ نے نعیم کو اس مقدمے سے بری کر دیا اور ان کی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔

ساہیوال کے نعیم ارشد کو سنہ 2011 میں 2500 روپے کے تنازع پر ہونے والے ایک قتل کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور پھر چار برس بعد جولائی 2015 میں انھیں اسی مقدمے میں عمر قید کی سزا بھی سُنا دی گئی۔
ٹرائل کورٹ کا یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ گیا لیکن وہاں بھی اس سزا کو برقرار رکھا گیا لیکن اب تقریباً 15 برس بعد سپریم کورٹ نے نعیم کو اس مقدمے سے بری کر دیا اور ان کی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔
ارشد کے خلاف درج مقدمے میں کہا گیا تھا کہ انھوں نے انور علی نامی کپڑوں کے تاجر سے کچھ کپڑے لیے تھے اور کچھ پیسے دے دیے تھے اور باقی 2500 بعد میں دینے کا وعدہ کیا تھا۔
پنجاب کے شہر ساہیوال میں پولیس نے 14 مارچ سنہ 2011کو ایک شخص محمد انور کے قتل کے مقدمے میں نعیم ارشد سمیت تین افراد کو گرفتار کیا تھا اور ٹرائل کورٹ نے 30 جولائی 2015 میں قتل کے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے نعیم ارشد کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے دیگر دو ملزمان شہباز اور شبیر کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا تھا۔
تاہم اس مقدمے کی تفصیلات جاننے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ عدالت نے ارشد کی رہائی کے فیصلے میں کیا لکھا۔
فیصلے میں کیا کہا گیا؟
عدالت کا کہنا ہے کہ اس کیس میں مدعی مقدمہ کی جائے وقوعہ پر موجودگی اور اس ضمن میں پیش کیے گئے شواہد حالات کو مشکوک بناتے ہیں، اس لیے قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے شخص نعیم ارشد عرف پپو کو اس مقدمے سے بری کرتے ہوئے انھیں فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نعیم ارشد کی لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔ اس تین رکنی بینچ میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے نعیم ارشد کی اپیل پر فیصلہ تحریر کیا۔
پانچ صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ اس مقدمے کے اندارج سے لے کر متعقلہ عدالت میں بیان دینے تک اس مقدمے کے مدعی کاشف جمیل نے یہی مؤقف دُہرایا کہ مقتول انور، نعیم ارشد کی طرف سے کیے گئے فائر کی وجہ سے ہلاک ہوا اور اس میں کسی شریک ملزم کا کوئی کردار نہیں جبکہ اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے اپنی تفتیش میں کہا ہے کہ انور کی موت نعیم ارشد کی طرف سے کیے گئے فائر کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ اس مقدمے میں شریک ملزم شہباز موت کی وجہ بنا تھا۔

اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ تفتیشی افسر نے اپنی تفتیش میں یہ بھی لکھا کہ ملزم شہباز سے نہ صرف قتل میں استعمال ہونے والا پستول برآمد ہوا بلکہ جائے حادثہ سے ملنے والی گولی کا خالی خول بھی اسی پستول سے میچ کر گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے اس مقدمے میں شریک ملزم شہباز اور شبیر کو بری کر دیا تھا اور عدالت کے اس فیصلے کو نہ تو مدعی مقدمہ اور نہ ہی ریاست نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ نعیم ارشد کی طرف سے اس اپیل کی سماعت کے دوران یہ بات بھی مشاہدے میں آئی کہ مدعی مقدمہ کاشف جمیل نے جائے وقوعہ پر اپنی موجودگی کے بارے میں کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی۔
اس کے علاوہ انور کے قتل کے مقدمے میں وقوعہ کا جو وقت درج کیا گیا، وہ شام ساڑھے سات بجے ہے جبکہ سرکاری کلینڈر کے مطابق 14 مارچ سنہ 2011 کو سورج غروب ہونے کا وقت 6 بج کر 35 منٹ تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس وقت انور کا قتل ہوا اس وقت مکمل اندھیرا تھا اور مدعی مقدمہ نہ تو مقدمے کے اندراج کے وقت اور نہ ہی ٹرائل کورٹ میں جائے حادثہ میں لائٹ کی دستیابی کے بارے میں کچھ بتا سکا جس کی روشنی میں اس نے ملزم نعیم ارشد کو شناخت کیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ایسی غلطی پراسیکیوشن کے موقف میں شکوک وشہبات پیدا کرتی ہے، اس لیے عدالت نعیم ارشد کی اپیل منظور کرتے ہوئے انھیں فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیتی ہے۔
واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے قتل کے اس مقدمے کا فیصلہ 30 جولائی 2015 کو سنایا تھا، جس میں نعیم ارشد کو مجرم گردانتے ہوئے عمر قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔
اس فیصلے کو نعیم ارشد نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا تاہم لاہور ہائی کورٹ نے 29 نومبر 2017 کو اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔
ایف آئی آر میں کیا تھا؟
ساہیوال کے علاقے تھانہ فرید ٹاون میں اس واقعہ سے متعلقدرج ہونے والے اس مقدمے میں کہا گیا تھا کہ مقتول انور علی، جس کی علاقے میں کپڑے کی دکان تھی، سے نعیم ارشد نے کچھ سوٹ ادھار لیے تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے کچھ رقم ادا کی جبکہ باقی ڈھائی ہزار چند دن میں ادا کرنے کا وعدہ کیا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

مقتول کے قریبی رشتہ دار کاشف جمیل کی مدعیت میں درج ہونے والے اس مقدمے میں کہا گیا تھا کہ واقعے سے چند روز قبل جب مقتول نے ملزم سے بقایا رقم کی واپسی کا تقاضا کیا تو ملزم نے نہ صرف مقتول کو گالیاں دیں بلکہ اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم اپنے دو ساتھیوں شہباز اور شبیر کے ہمراہ مقتول انور کی دکان پر آیا اور نعیم ارشد نے اس وقت فائر کیا جو انور کے پیٹ میں لگا اور اسے طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال لے جایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔