موجودہ دور میں فالج اور دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جسے ماہرین صحت ایک سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ بیماریاں اب صرف بزرگوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ نوجوان اور درمیانی عمر کے افراد بھی تیزی سے ان کا شکار ہو رہے ہیں، جس کی بڑی وجہ بدلتا ہوا طرزِ زندگی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید زندگی کی تیز رفتاری نے انسان کو مسلسل ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ نیند کی کمی، وقت پر کھانا نہ کھانا، طویل وقت تک اسکرین کے سامنے بیٹھنا اور جسمانی سرگرمی کا فقدان صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ یہی عوامل فالج اور ہارٹ اٹیک کے خطرات میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق فالج اس وقت ہوتا ہے جب دماغ تک خون کی فراہمی متاثر ہو جائے یا دماغ کی کوئی رگ پھٹ جائے جس کے نتیجے میں دماغی خلیات کو آکسیجن نہیں مل پاتی۔ یہ صورتحال مستقل معذوری یا موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
ماہرین صحت اور طبی تحقیقاتی اداروں کے مطابق ہائی بلڈ پریشر فالج کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ بلند فشارِ خون شریانوں کو نقصان پہنچا کر انہیں تنگ اور کمزور بنا دیتا ہے، جس سے فالج کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ چونکہ ہائی بلڈ پریشر اکثر بغیر علامات کے ہوتا ہے اس لیے اس کی بروقت تشخیص اور باقاعدہ جانچ نہایت ضروری ہے۔
مصروف طرزِ زندگی کے باعث فاسٹ فوڈ کا بڑھتا ہوا استعمال، تیل اور نمک سے بھرپور غذائیں، نیند کی کمی اور ورزش نہ کرنا بھی فالج کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے۔ ایسی غذائیں شریانوں میں رکاوٹ پیدا کر کے خون کے بہاؤ کو متاثر کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی خون کی نالیوں کو کمزور اور خون کو گاڑھا بنا دیتی ہے جبکہ شراب نوشی بلڈ پریشر میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ یہ عادتیں کم عمر افراد میں بھی فالج اور دل کے دورے جیسے جان لیوا امراض پیدا کر سکتی ہیں۔
مسلسل ذہنی دباؤ جسم میں ہارمونز کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے جس سے بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر متاثر ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک تناؤ میں رہنے والے افراد میں فالج کا خطرہ زیادہ پایا جاتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ فالج ایک سنگین مگر قابلِ بچاؤ مرض ہے۔ باقاعدہ طبی معائنہ، متوازن غذا، روزانہ ورزش، تمباکو نوشی سے پرہیز اور ذہنی سکون اختیار کر کے فالج اور دل کے دورے کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔