اکثر لوگ خون کی اقسام (بلڈ گروپ) کو صرف ہنگامی طبی ضرورت یا بلڈ ٹرانسفیوژن تک محدود سمجھتے ہیں لیکن طبی ماہرین کے مطابق کچھ بلڈ گروپس کے حامل افراد میں کینسر جیسی خطرناک بیماریوں کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔
حالیہ طبی تحقیق میں پیٹ کے کینسر (گیسٹرک کینسر) اور خون کی مخصوص اقسام کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ طبی جریدے BMC Cancer میں 2019 میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بلڈ گروپ اے اور اے بی کے حامل افراد میں معدے کے کینسر کا خطرہ دیگر گروپس کے مقابلے میں زیادہ پایا گیا۔
مطالعے میں بتایا گیا کہ بلڈ گروپ اے رکھنے والے افراد میں یہ خطرہ او (O) گروپ کے مقابلے میں تقریباً 13 سے 19 فیصد زیادہ ہوتا ہے جبکہ اے بی گروپ میں یہ خطرہ 18 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین نے نشاندہی کی کہ بلڈ گروپ اے کے افراد میں ہیلی کوبیکٹر پائلوری نامی بیکٹیریا سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جو معدے کے کینسر کی اہم وجہ سمجھا جاتا ہے تاہم یہ خطرہ بیکٹیریا کے بغیر بھی برقرار رہتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خون کی قسم خود کینسر کی براہِ راست وجہ نہیں لیکن مختلف بلڈ گروپس میں جسمانی سوزش، مدافعتی نظام، خلیاتی رابطے اور معدے میں تیزاب کی سطح کے فرق کی وجہ سے کینسر کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔
طبّی تحقیق کے مطابق معدے کا کینسر کئی عوامل کا نتیجہ ہوتا ہے جن میں ناقص خوراک، سگریٹ نوشی، الکحل، موٹاپا، انفیکشن اور ماحولیاتی اثرات شامل ہیں۔ یہ مرض ایشیا، مشرقی یورپ اور لاطینی امریکہ میں زیادہ پائی جاتا ہے اور عمر کے ساتھ خطرہ بڑھتا ہے جبکہ مردوں میں اس کی تشخیص خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔
ماہرین صحت مشورہ دیتے ہیں کہ صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا، تمباکو نوشی سے پرہیز اور بروقت طبی معائنہ معدے کے کینسر اور دیگر بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔