دنیا کے سب سے دولت مند شخص اور امریکی بزنس ٹائیکون ایلون مسک نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ زمین پر توانائی کے وسائل صرف 30 ماہ میں شدید دباؤ میں آجائیں گے۔ مسک کا یہ بیان دنیا بھر میں ہلچل کا باعث بنا ہے۔
جان کولیسن کے پوڈکاسٹ ’’چیکی پینٹ‘‘ میں طویل انٹرویو کے دوران ایلون مسک نے کہا کہ 30 سے 36 ماہ کے اندر زمین کی محدود توانائی کی وجہ سے مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کے لیے جگہ سب سے زیادہ معاشی اور تکنیکی طور پر قیمتی مقام بن جائے گی۔ مسک نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ سنگین نوعیت کا ہے اور اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ایلون مسک نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک غیر معمولی منصوبے کا انکشاف بھی کیا جس کے تحت کمپیوٹنگ کی اہم صلاحیتیں زمین سے ہٹا کر خلا میں منتقل کی جائیں گی۔ اس منصوبے کے تحت لوئر ارتھ مدار میں دس لاکھ چھوٹے سیٹلائٹس تعینات کیے جائیں گے، جو شمسی توانائی سے چلنے والے سینٹرل پروسیسنگ یونٹس سے لیس ہوں گے اور خلا میں موجود شمسی تابکاری سے مسلسل توانائی حاصل کریں گے۔
مسک نے مزید کہا کہ سورج خلا میں ہمیشہ موجود رہتا ہے، لہذا اس منصوبے سے زمین کی توانائی کی محدودیت سے آزاد، نہ ختم ہونے والی توانائی پیدا کی جا سکتی ہے، جو مستقبل میں مصنوعی ذہانت اور دیگر ٹیکنالوجیز کی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
یہ منصوبہ ایلون مسک کی کمپنیوں، بشمول ٹیسلا اور ایکس (سابقہ ٹویٹر) کے ذریعے عملی شکل اختیار کرنے کی توقع ہے اور اسے مستقبل کے توانائی بحران کے لیے ایک منفرد حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔