اکثر لوگ خراٹوں کو معمولی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل خراٹے اور نیند کے دوران سانس رک جانا سنگین امراض کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ دل کی بیماری، ہڈیوں کی کمزوری اور بلڈ پریشر کے مسائل اس کی واضح مثال ہیں۔
ماہرین کے مطابق خراٹے لینا صرف ارد گرد کے لوگوں کے لیے پریشانی کا سبب نہیں بلکہ یہ آپ کی اپنی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
عام طور پر خراٹے اوپری سانس کی نالی میں معمولی رکاوٹ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ ہوا کے گزرنے سے حلق کے نرم حصوں میں کمپن پیدا ہوتی ہے، جس سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ یہ ہلکی نوعیت کے خراٹے عموماً خطرناک نہیں ہوتے، مگر ساتھ سونے والوں کے لیے تکلیف دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم، اونچی آواز میں مسلسل خراٹے، نیند کے دوران سانس رکنا یا بار بار سانس بند ہونا سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں، جسے سلیپ ایپنیا کہا جاتا ہے۔ اس حالت میں جسم میں آکسیجن کی سطح کم ہو جاتی ہے اور دل پر دباؤ بڑھتا ہے، جس سے دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق خراٹے، چاہے پہلے سے کوئی بیماری موجود نہ ہو، دل کے امراض کے امکانات بڑھا سکتے ہیں۔ مسلسل آکسیجن کی کمی خلیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جس سے جسم میں غیر معمولی تبدیلیاں اور سنگین بیماریاں پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
نیند کے دوران سانس رکنے سے جسم میں سوزش بڑھتی ہے، جو ہڈیوں کی مضبوطی متاثر کرتی ہے اور خاص طور پر خواتین میں فریکچر کے خطرات بڑھا دیتی ہے.
مزید یہ کہ نیند میں پیدا ہونے والے اسٹریس ہارمونز انسولین کے عمل میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں، جس سے شوگر کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بلڈ پریشر میں اضافہ، دل کے دورے، فالج اور دیگر امراض کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر خراٹے بہت زیادہ ہوں، سانس رکتی محسوس ہو یا دن میں غیر معمولی تھکن رہے تو اسے معمولی نہ سمجھیں اور فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔